ہندوستان میں شہریت ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش
ہندوستان کی پارلیمنٹ لوک سبھا میں اپوزیشن کی شدید مخالفت اور ہنگامہ آرائی کے درمیان وزیر داخلہ امت شاہ نے شہریت ترمیمی بل پیش کردیا۔
ہندوستانی میڈیا کے مطابق جس وقت وزیرداخلہ امت شاہ نے شہریت ترمیمی بل پیش کیا ایوان میں حزب اختلاف کی تقریبا سبھی جماعتوں نے زور دار ہنگامہ کیا۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، سماج وادی پارٹی، بی ایس پی اور دیگر جماعتوں نے اس بل کو مذہب کی بنیاد پرشہریت طے کرکے آئین کے بنیادی مقصد کو مجروح کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس سے آئین کے آرٹیکل دس، تیرہ، چودہ، پندرہ اور چھبیس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ متنازعہ شہریت ترمیمی بل میں افغانستان پاکستان اور بنگلہ دیش سے مذہب کی بنیاد پر مبینہ طور پر استحصال کی وجہ سے ہندوستان میں پناہ لینے والے ہندو، سکھ، عیسائی، بودھ اورجین طبقے کے لوگوں کو شہریت دینے کی بات کی گئی ہے جبکہ مسلمانوں کو اس بل سے الگ رکھا گیا ہے۔ کانگریس کے پارلیمانی لیڈر رنجن چودھری نے کہا کہ اس بل کوپاس کرکے آئین کے آرٹیکل تیرہ اور چودہ کو کمزور کیا جارہا ہے اور یہ ملک کے سیکولر ڈھانچے کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس متنازعہ بل کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں اور اس کو مسلمانوں کے خلاف بل بتایا جارہا ہے۔ دوسری جانب ہندوستان کے ایک ہزار سے زائد سائنسدانوں اور اسکالروں نے اس بل کے خلاف مہم چلا دی ہے۔ ہندوستان کی یونیورسٹیوں سے لے کر کینڈا تک کی یونیورسٹیو میں موجود ہندوستانی سائنسدانوں اور اسکالروں نے شہریت ترمیمی بل کے خلاف آن لائن مہم کے دوران کہا ہے کہ شہریت دینے کے لئے مذہب کا استعمال نہیں ہونا چاہئے اور یہ بل آئین کی بنیادی باتوں کی نفی کرتا ہے۔