ہندوستان میں پرتشدد مظاہرے، یوپی میں چھے افراد ہلاک
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i359361-ہندوستان_میں_پرتشدد_مظاہرے_یوپی_میں_چھے_افراد_ہلاک
ہندوستان میں شہریت ترمیمی ایکٹ سی اے اے کے خلاف جمعے کو بھی قومی دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ ریاست اترپردیش میں مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران کب سے چھے افراد کی موت ہوگئی ہے
(last modified 2025-07-01T12:42:33+00:00 )
Dec ۲۰, ۲۰۱۹ ۱۴:۵۵ Asia/Tehran
  • ہندوستان میں پرتشدد مظاہرے، یوپی میں چھے افراد ہلاک

ہندوستان میں شہریت ترمیمی ایکٹ سی اے اے کے خلاف جمعے کو بھی قومی دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ ریاست اترپردیش میں مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران کب سے چھے افراد کی موت ہوگئی ہے

ہندوستان میں شہریت ترمیمی ایکٹ سی اے اے کے خلاف جمعے کو بھی قومی دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ ریاست اترپردیش میں مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران کب سے چھے افراد کی موت ہوگئی ہے دہلی کے مختلف علاقوں میں پرامن مظاہرے کئے گئے تاہم رات آٹھ بجے کے آس پاس دہلی گیٹ کے علاقے میں مظاہرے کےدوران کچھ پر تشدد واقعات پیش آئے۔

ریاست اترپردیش کے پولیس سربراہ نے کہا ہے کہ کانپور اور مغربی اترپردیش کے متعدد اضلاع میں پرتشدد مظاہروں کے دوران چھے افراد کی موت ہوگئی ہے -

ہندوستانی میڈیا کے مطابق بجنور میں دو سنبھل میں ایک میرٹھ میں ایک ، فیروزآباد میں ایک اور کانپور میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ یوپی کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہروں کے دوران درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ دہلی کی جامع مسجد اور دیگر علاقوں میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں ہر طبقے اور مذہب کے لوگ شامل تھے -

جامع مسجد کے باہر انجام پانے والے مظاہروں میں دسیوں ہزار کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور سی اے اے کے خلاف نعرے لگائے- ہندوستان کی بھیم آرمی نے بھی جامع مسجد سے جنتر منتر تک مارچ نکالنے کی اجازت مانگی تھی لیکن پولیس نے اجازت نہیں دی تاہم جمعے کی نماز کے بعد بھیم آرمی کے حامیوں اور دیگر طبقوں کے ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا ۔

بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد چھپ کر لوگوں کے درمیان پہنچے اور انہوں نے آئین ہند کی کاپی لہراتے ہوئے سی اے اے کے خلاف نعرے لگائے.اس درمیان پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہوگئے ۔ادھر دہلی کے مختلف میٹرو اسٹیشن بند کردئے گئے ہیں اور ڈرون طیاروں سے علاقے کی نگرانی کی جارہی ہے۔اسی کے ساتھ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ جمعے کو بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سامنے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔دوسری جانب مرکزی وزیرداخلہ امت کی رہائشگاہ کے باہر کانگرس کی خاتون کارکنوں نے سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ دہلی کانگریس شعبہ خواتین کی صدر سمیت کم سے کم پچاس خاتون کارکنکوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے -اس درمیان ہندوستان کے تقریبا سبھی شہروں میں جمعے کو بھی سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے -جمعے کو بھی ہونے والے مظاہروں میں لوگ اپنے ہاتھوں میں آئین ہند کی کاپیاں اور قومی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور آئین ہند کی حفاظت پر زور دے رہے تھے -مظاہرین نے این آر سی اور سی اے اے کو کالا قانون بتاتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا -ادھر ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلی نے اعلان کیا ہے کہ انہیں کسی سے محب وطن ہونے کا سرٹیفکٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انھوں نے یہ بات بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ، اپنے اوپر سخت تنقید کے بعد کہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ریاست میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف عوام پر امن مظاہرے کررہے ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ تشدد بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مرشد آباد میں بی جے پی کے پانچ اراکین کو گرفتار کیا گیا ہے جو مظاہرین میں شامل ہوکے ، عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے تھے۔دریں اثنا جمعرات کو بنگلورو اور لکھنو میں مظاہروں کے دوران تشدد آمیز واقعات کے بعد جن میں مجموعی طور پر تین افراد کی موت ہوگئی تھی بنگلورو میں کرفیو نافذ ہے اور لکھنو میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے ۔ریاست یوپی کے تقریبا سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہونے کے باوجود شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کے خلاف مظاہرے کئے گئے ۔ زیادہ تر شہروں میں عوم پر امن رہے لیکن بعض شہروں میں پولیس کی مداخلت کے بعد تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے۔ریاست اترپردیش کے صنعتی شہر کانپور ، بجنور، فیروز آباد سنبھل اور میرٹھ میں میں مظاہرین پر فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں ۔ جمعے کی فائرنگ میں کم سے کم چھے افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے ۔ یوپی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کہیں بھی مظاہرین پر فائرنگ نہیں کی ہے۔ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کی ریاست گجرات کے بھی مختلف شہروں میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف وسیع مظاہرے کئے گئے جن میں مختلف مذاہب اور فرقے کے لوگوں نے شرکت کی۔اس دوران شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کے خلاف بیرون ہند یونیورسٹیوں میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔اسی سلسلے میں ایک مظاہرہ کنیڈا کی یونیورسٹی آف بریٹش کولمبیا میں بھی کیا گیا۔ یوبی سی کے طلبا و طالبات نے اپنے مظاہرے میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کی مخالفت کرنے کے ساتھ ہی آئین ہند کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔یوبی سی کے طلبا نے ایسے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ پولیس کے تشدد کی مذمت اور طلبا کے ساتھ یک جہتی کے نعرے بھی درج تھے۔