قومی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج کا سلسلہ جاری
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ کے احتجاج کو ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ اور اطراف کی خواتین سریتا وہار - کالندی کنج روڈ پر بیٹھ کر احتجاج کررہی ہیں، خواتین کے حوصلے اور عزم کو دیکھنے کے لئے بھی لوگ یہاں آنے لگے ہیں اور یہ احتجاج ایک تحریک کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء پر تشدد اور پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے بعد سے پورے ملک میں احتجاجی سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسی سلسلے میں بہار کے مختلف اضلاع، بنگال اور مہاراشٹر وغیرہ میں بھی احتجاج جاری ہے۔
وہیں کل رات دہلی کے لکشمی نگر علاقے میں بھی بڑی تعداد میں خواتین احتجاج پر بیٹھ گئیں۔ اسی کڑی کو آگے بڑھاتے ہوئے دیوبند کی خواتین نے بھی محاذ سنبھال لیا ہے۔ عید گاہ میدان میں چل رہے احتجاج میں اب مسلم خواتین بھی سڑکوں پر اتر آئی ہیں۔ دیوبند میں خواتین ایکشن کمیٹی کے بینر تلے خواتین نے ترنگا ہاتھ میں لے کر حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے مارچ نکالا۔ ساتھ ہی اس احتجاج میں خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس موقع پر بھاری پولیس فورس بھی تعینات کی گئی۔