Aug ۰۷, ۲۰۱۵ ۰۷:۳۷ Asia/Tehran
  • ایران امریکہ تعلقات کا راستہ ہموار نہیں ہے: آیت اللہ ہاشمی رفسنجای

تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایٹمی مذاکرات کے نتائج کے باوجود، ایران امریکہ تعلقات کا راستہ ہموار نہیں ہے-

ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے المانیٹر انٹرنیٹ ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ویانا میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک، اور ایران امریکہ کے درمیان سیاسی تعاون کے مستقبل کے بارے میں کہا کہ فطری امر ہے کہ ایران امریکہ تعلقات کا راستہ اتنا ہموار نہیں ہے کہ جتنا دیگر مغربی ممالک کے ساتھ ہموار ہوا ہے- آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب کے پہلے سے آج تک یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ایران کے خلاف تمام رکاوٹوں کا ذمہ دار امریکہ ہے تاہم ایسا نظر آتا ہے کہ امریکی ایک طرح سے اب ماضی سے دور ہونا چاہتے ہیں مگر یہ انھیں عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا- تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے ایٹمی معاہدے کے بعد سعودی عرب اور علاقے کے دیگر ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں کہا کہ ذاتی طور پر ہمارے اور سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ یہ اسلامی ممالک ہیں اور آئین کے مطابق ان ممالک کے ساتھ تعلقات، ہماری ترجیحات میں ہیں- آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے مزید کہا کہ باوجود اس کے کہ سعودی عرب جیسے ممالک نے ایران کے خلاف صدام کی جنگ میں بغداد کی حمایت کی تھی لیکن جنگ کے بعد ایران کی کشیدگی دور کرنے کی پالیسی کا مثبت جواب دیئے جانے اور تعاون شروع ہونے کے بعد، ہمارے اختلافات تیزی سے حل ہو گئے- تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے اس سوال کے جواب میں کہ اس وقت علاقے میں کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟ کہا کہ شام، عراق، یمن اور بحرین سمیت علاقے میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات وہ جملہ مسائل ہیں کہ جن سے کافی فاصلے پیدا ہوئے ہیں لیکن علاقے کے ممالک کے ساتھ تعاون کی صورت میں مسائل، بہت زیادہ دشوار نہیں بنیں گے اور ماضی کی طرح حل ہو جائیں گے-