دشمنوں کے مقابل مزاحمت کی تقویت ایران اور عراق کی پالیسی: آیت اللہ نوری ہمدانی
Aug ۱۴, ۲۰۱۵ ۰۹:۵۶ Asia/Tehran
ایران کے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے کہا ہے کہ ایران کی اہم پالیسی دشمنوں کے مقابل مزاحمت کی تقویت پر مبنی ہے-
اطلاعات کے مطابق آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے ایران کے مقدس شہر قم میں جمعرات کے روز تہران میں عراق کے نئے سفیر راجح صابر عبود الموسوی سے ملاقات کے دوران کہا کہ عالم اسلام کے موجودہ حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اہم پالیسی دشمنوں کے مقابل مزاحمت کی تقویت پر مبنی ہے- انہوں نے علاقے اور عالم اسلام کی حساس صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج حق و باطل ایک دوسرے کے سامنے ہیں اور نفاق، سامراجیت اور صیہونیت کے مثلث سے اسلام کے مقابلے میں سب سے اہم ہتھیار مزاحمت اور مسلمان اقوام، خاص طور سے ایران اور عراق کی اقوام، کے درمیان اتحاد کی تقویت ہے- آیت اللہ نوری ہمدانی نے عراق، شام، یمن، لبنان اور فلسطین کے حالات کو مسلمانوں کے درمیان پھیلائی گئی تفرقہ انگیزی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ دشمن کے مقابل مزاحمت کے سلسلے میں شیعہ سنی کی بات نہیں ہونی چاہئے- انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک قوم کی حیثیت سے دنیا والوں تک حقیقی اسلام اور قرآن کریم کی تعلیمات کی رسائی کو اپنی مزاحمت اور اپنے ایجنڈے میں سرفہرست قرار دیں- تہران میں عراق کے نئے سفیر راجح صابر عبود الموسوی نے اس ملاقات میں ایران اور عراق کے سفارتی اور ثقافتی تعلقات کی تقویت پر تاکید کرتے ہوئے مراجع کرام کے کردار کو اس سلسلے میں اہم قرار دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھی ہمسائیگی، ہمہ جانبہ تعلقات کا استحکام اور متحدہ دشمن کے مقابل اتحاد کا تحفظ عراقی حکومت کے اہداف میں شامل ہے-