جنرل حسین ہمدانی کے جلوس جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i199184-جنرل_حسین_ہمدانی_کے_جلوس_جنازہ_میں_ہزاروں_افراد_کی_شرکت
جنرل حسین ہمدانی کی نماز جنازہ آج تہران میں ادا کی گئی جس میں اعلی سول اور فوجی حکام کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں نے بھی شرکت کی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۱, ۲۰۱۵ ۱۱:۲۳ Asia/Tehran
  • جنرل حسین ہمدانی کے جلوس جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت
    جنرل حسین ہمدانی کے جلوس جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

جنرل حسین ہمدانی کی نماز جنازہ آج تہران میں ادا کی گئی جس میں اعلی سول اور فوجی حکام کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں نے بھی شرکت کی۔

جنرل حسین ہمدانی کی میت تہران میں آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد ہمدان منتقل کی جائے گی جہاں انہیں ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔


اس موقع پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ محسن رضائی نے کہا کہ جنرل حسین ہمدانی نے پـچاس ہزار شامی جوانوں کو داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ میں فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کی تربیت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی فوج یا لشکر شام نہیں بھیجا بلکہ شام کے وطن پرست نوجوانوں پر مشتمل ایک طاقتور فوج قائم کردی۔


ایران کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل عطا اللہ سیاری نے اس موقع پر کہا کہ جنرل ہمدانی نے مزاحمت کے محور میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی شہادت کا پیغام یہ ہے کہ تمام مجاہدین ہر وقت تیاری کی حالت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل حسین ہمدانی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف، جنرل حسین سلامی کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروہوں اور صیہونی حکومت کے بارے میں ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ صیہونی حکومت کی زندگی کا چراغ گل ہونے والا ہے اور جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے بھی فرمایا ہے، اسرائیل آئندہ عشروں کے دوران دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا۔


رہبر انقلاب اسلامی کے محتسب دفتر کے سربراہ علی اکبر ناطق نوری کا کہنا تھا کہ شہید جنرل حسین ہمدانی مسلط کردہ جنگ سے پہلے اور بعد کے برسوں میں ،ولایت و امامت کے راستے پر گامزن اعلی اسلامی اخلاق پر عمل کرنے والے سپاہی کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔


قابل ذکر ہے کہ شہید حسین ہمدانی کو ان کی گرانقدر فوجی اور انقلابی خدمات کی وجہ سے انکی حیات کے دوان ہی رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے دو مرتبہ نشان فتح سے بھی نوازا گیا۔