رہبر انقلاب اسلامی سے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر کی ملاقات
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلامی تعلیمات کی ترویج اور مذہبی شعائر کے احترام کو درپیش خطرات کے سدباب کے لئے عوامی حمایت کے حصول کا باعث قرار دیا۔
تہران میں ملاقات کے لئے آنے والے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علی اف کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے عوام کے درمیان دوستی اور برادری کے رشتے قائم ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جمہوریہ آذربائیجان کے عوام کی سلامتی اور ترقی و پیشرفت، ایران کے لئے انتہائی اہم ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی تنطیموں کی سرگرمیوں کی تقویت کو تکفیری گروہوں کی فتنہ پروری کے سدباب کے لئے ضروری قرار دیا۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کو ایک جیسے خطرات کا سامنا ہے تاہم اسلامی تعلیمات کی ترویج، درپیش خطرات کے مقابلے میں خدا کی نصرت اور آئمہ طاہرین علیھم السلام کی نظر کرم کا سبب بنے گی۔ اس ملاقات میں جس میں صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی بھی موجود تھے، جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علی اف نے تہران اور باکو کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے تعلقات کی سطح کو مثالی اور اطمینان بخش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی اور عالمی مسائل میں جمہوریہ آذربائیجان اور ایران کے نظریات میں پوری طرح ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ الہام علی اف کا کہنا تھا کہ ایران، عالمی امن و سلامتی کے قیام میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ہم ایران کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریہ آذربائیجان نے ایران کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اتفاق کیا ہے تاکہ خطے میں امن و امان قائم کیا جاسکے۔ جمہوریہ آذربائیجان کے صدر نے کہا کہ اسلام اور شیعہ مکتب، جمہوریہ آذربائیجان کے عوام کا پسندیدہ مذہب ہے اور آپ جیسی عظیم ہستی کی برکت سے ہمیں اور اس خطے کو بڑی ڈھارس ہے۔