اس سال ایرانی عوام کی حج سے محرومی کا ذمہ دار سعودی عرب ہے-
اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ایران کے لئے تمام راستے بند کردیئے ہیں اور اس سال حج انجام نہ پانے کی صورت میں اس کی ذمہ داری سعود عرب پر عائد ہوگی-
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان صادق حسین جابری انصاری نے ایران کے ایک ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو میں اس سال حج کے سلسلے میں کہا کہ سعودی عرب اپنے نعرے کے برخلاف حج کے مسئلے کو سیاسی تعلقات سے جوڑ رہا ہے- ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب مختلف مسائل میں ایران کی مخالفت پر اتر آیا ہے اور وہ مدتوں سے ایران کے ساتھ کشیدگی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے- جابری انصاری نے کہا کہ حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ انجام پانے والے مذاکرات میں، سعودی عرب نے حجاج کرام کو امن و سلامتی فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی ہے- ایران کے ادارہ حج و زیارات کے سربراہ سعید اوحدی ، جو اس سال حج میں ایرانی عوام کی شرکت سے متعلق مذاکرات کے دوسرے دور میں حصہ لینے کےلئے ایک وفد کے ہمراہ سعودی عرب گئے ہوئے تھے، جمعے کو ایران واپس آگئے-
ایرانی حکام اپنے حجاج کے لئے امن و سلامتی اور ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کے خواہاں ہیں اور یہ ایسے مطالبات ہیں جن پر سعودی عرب کے حکام کو توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ حجاج کرام کی سلامتی اور ان کی عزت و آبرو کی حفاظت سعودی عرب کے فرائض میں شامل ہے ۔ سعودی عرب کے حکام کو حج سے سیاسی استفادہ نہیں کرنا چاہیے اور حج کو دوسروں پر دباؤ کے لئے بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ سعودی عرب کے حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی رفتار میں اصلاح کریں اور حجاج کرام کے ساتھ اپنی رفتارکو درست کریں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس سال حج بیت اللہ کی بجا آوری کے لئے، سعودی عرب سے اپنے مطالبات کا جواب حاصل کرنے کی آخری تاریخ اتوار ، انتیس مئی قرار دی ہے-