جنوبی یمن میں قتل عام پرایران کا ردعمل
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i239200-جنوبی_یمن_میں_قتل_عام_پرایران_کا_ردعمل
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے یمن کے علاقے الصراری میں عام لوگوں کے قتل عام کو انسانیت کےخلاف جرم کا مصداق قراردیا اور کہا ہے کہ یہ جرم سعودی عرب سے وابستہ افراد کی بےچارگی کی نشانی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۲۸, ۲۰۱۶ ۰۴:۰۴ Asia/Tehran
  • جنوبی یمن میں قتل عام پرایران کا ردعمل

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے یمن کے علاقے الصراری میں عام لوگوں کے قتل عام کو انسانیت کےخلاف جرم کا مصداق قراردیا اور کہا ہے کہ یہ جرم سعودی عرب سے وابستہ افراد کی بےچارگی کی نشانی ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا چونکہ یہ جرم عام شہریوں کی آبادی کے خلاف منظم طور پر انجام دیا گیا ہے اس لیے یہ انسانیت کے خلاف جرم کا واضح مصداق ہے اور جنگی جرم شمار ہوتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب سے وابستہ مسلح افراد کے غیرانسانی اور ہولناک اقدامات سمیت عام شہریوں کا قتل عام جاری رہنے کوسعودی عرب سے وابستہ مسلح افراد کی ناتوانی اوربےچارگی کی نشانی قرار دیا اور خبردار کیا کہ جنگ پسندی اور تکفیری دہشت گردی کی حمایت جاری رہنے سے القاعدہ اور داعش کو جنم دینے والے کے طورپراس حکومت کا حقیقی چہرہ کھل کر دنیا والوں کے سامنے آ گیا ہے اور وہ یقینا ایسی دلدل میں دھنس جائیں گے کہ جس سے باہر نکلنا ممکن نہیں ہو گا۔

واضح رہے کے سعودی عرب کے زرخرید ایجنٹوں نے منگل کے روز یمن کے الصراری گاؤں میں ایک مسجد کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ اس گاؤں پر حملہ کر کے دسیوں افراد کواغوا کر لیا اور ان میں سے بہت سے افراد کو قتل کر کے ان کی لاشوں کے ٹکڑے کر دیے۔