امت اسلامیہ میں تفرقہ ڈالنا سعودی حکومت کی اہم پالیسی ہے
حج و زیارت کے امور میں ولی فقیہ کے نمائندے اور ایرانی عازمین حج کے سرپرست نے کہا ہے کہ امت اسلامیہ میں تفرقہ ڈالنا آل سعود حکومت کی پالیسیوں میں سرفہرست ہے-
حجت الاسلام علی قاضی عسکر نے تہران میں دعائے عرفہ اور شہدائے سانحہ منیٰ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد ہونے والے مرکزی اجتماع سے خطاب کے دوران ، تفرقہ اندازی کے تعلق سے ایران کے خلاف سعودی حکام کے جھوٹے اور بے بنیاد دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دعوے محض حج کا انتظام چلانے میں آل سعود حکومت کی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے کئے گئے ہیں -
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مستحکم بنانے پر مبنی امام خمینی رح اور رہبرانقلاب اسلامی کے بیانات اور کوششوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران ہمیشہ سے اتحاد کا علمبردار رہا ہے، لیکن سعودی حکومت نے ہمیشہ مناسک حج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے -
حجت الاسلام قاضی عسکر نے کہا کہ سعودی حکام حج میں شیعہ وسنی سبھی عازمین حج کی توہین کرتے ہیں اور ایرانی زائرین کو مشرک کہتے ہیں - ان کا کہنا تھاکہ مکہ و مدینہ جانے والے سبھی مسلمان زائر ہوتے ہیں اور زیارت صرف شیعہ مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے -
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی کوشش ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے مسائل و مشکلات موسم حج میں بیان نہ کئے جائیں، جبکہ حج کا عظیم اجتماع فلسطین ، عراق ، لبنان، یمن ، بحرین اور پوری امت اسلامیہ کے مسائل کا حل تلاش کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے-
حج کے امورمیں ولی فقیہ کے نمائندے نے سانحہ منیٰ میں ایران اور دنیا کے مختلف ملکوں کے ہزاروں حاجیوں کی شہادت اور مسجد الحرام میں کرین گرنے کے حادثے اور اس میں عازمین حج کی شہادت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برس سعودی حکام کی نااہلی کی وجہ سے جس بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے اس کی تلافی ممکن نہیں ہے -
اس درمیان تہران کی علم و صنعت یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا نے اتوار کو ایک احتجاجی اجتماع کرکے سانحہ منیٰ کے تعلق سے آل سعود کی بدانتظامی اور نااہلی کی مذمت کی -