ایران نے ہتھیار یمن بھیجنے کا سعودی الزام مسترد کر دیا
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے نے سلامتی کونسل کے نام سعودی عرب کے خط کے جواب میں اس کے بےبنیاد دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران نے کبھی بھی انصار اللہ یمن کو ہتھیار بھیجنے کی پالیسی اختیار نہیں کی ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق غلام علی خوشرو نے بدھ کے روز ایک خط میں آل سعود حکومت کے ان دعووں کو کہ جن میں انصاراللہ کی جانب سے زلزال تین میزائل کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے ایران پر اسے یمن کو دینے کا الزام لگایا گیا تھا، مسترد کر دیا۔
انھوں نے اس خط میں کہا ہے کہ ایک ایسی حکومت کے نمائندے کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط بھیجنا کہ جس نے خود یمن پر حملہ کیا ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اس ملک کے عام شہریوں اور شہری تنصیبات کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کیے ہیں، انتہائی حیران کن ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور دیگر معتبر اداروں نے اب تک کئی بار سعودی عرب کی سرکردگی میں قائم ہونے والے اتحاد کے یمن کے عوام خاص طور پرعورتوں اور بچوں کے خلاف جرائم اور مظالم کی تائید کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک بار پھر اس بات پر زور دیتا ہے کہ بحران یمن کی فوجی راہ حل نہیں ہے اور وہ تمام متحارب گروہوں سے اپیل کرتا ہے کہ سیاسی مصالحت کا راستہ اختیار کریں اور پرامن طریقوں اور مذاکرات کے ذریعے بحران کو حل کریں۔