شام میں نئی امریکی منصوبہ بندی کی مذمت
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے شام میں امریکی فورسز کی موجودگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے حوالے سے امریکہ کی نئی منصوبہ بندی عالمی قوانین کی خلاف ورزی، شام کی خودمختاری اور خطے کے خلاف سازش ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹرحسن روحانی نے تہران میں 13ویں اسلامی پارلیمانی یونین کانفرنس کے موقع پر شام کے اسپیکرحمودہ یوسف صباغ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی نئی منصوبہ بندی شام کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف سازش ہے.
صدرمملکت روحانی نے دہشتگردوں کے خلاف شامی قوم اور مسلح افواج کی حالیہ فتوحات پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران ماضی کی طرح دہشتگردوں کے خلاف شامی قوم اور حکومت کی حمایت جاری رکھے گا اور اس کے ساتھ ہم شام میں قیام امن کے لئے سیاسی عمل کی بھی بھرپور حمایت کرتے ہیں.
ایران شام دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعلقات کی توسیع پر زور دیا. انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی اور بیرونی مداخلت کی روک تھام شامی قوم کے لئے اہم ہے. شام میں نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی اور ان کو درپیش مسائل کے حل کی ضرورت ہے.
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران میں عراق کے پارلیمانی اسپیکر سلیم الجبوری، قطر کی پارلیمنٹ کے اسپیکر احمد بن عبداللہ بن زید آل حمود، سینیگال کے پارلیمانی اسپیکر مصطفی نیاس اور الجزائر کے اسپیکر سے ہونے والی ملاقاتوں میں فلسطینی قوم کے حقوق کی بحالی، علاقے میں دہشت گردی کے خلاف مہم اور بعض اسلامی ملکوں منجملہ یمن کی مشکلات کے حل میں مدد کو اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ عالم اسلام کو اتحاد اور اخوت و برادری کی ضرورت ہے تاکہ وہ دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کر سکے۔