ایران عراق شام اور روس کے فوجی کمانڈروں کا بغداد اجلاس
اسلامی جمہوریہ ایران، روس، عراق اور شام کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈروں کے بغداد میں ہوئے پہلے چار جانبہ اجلاس میں دہشت گردی اور داعش کی مکمل نابودی پر تاکید گئی ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر اور فوج میں بین الاقوامی امور کے شعبے کے سربراہ بریگیڈیر جنرل قدیر نظامی نے جو ایک وفد کے ہمراہ بغداد کے دورے پر ہیں اس اجلاس کے اغراض و مقاصد کے بارے میں کہا کہ بغداد اجلاس میں عراق اور شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لئے جانے کے ساتھ ساتھ ایران روس عراق اور شام کی افواج کے درمیان ہم آہنگی کرنے والی کمیٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
بریگیڈیر جنرل قدیر نظامی نے کہا کہ بغداد اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیاکہ جب تک عراق اور شام میں دہشت گردی اور داعش کا مکمل صفایا نہیں ہوجاتا یہ چارجانبہ فوجی کوآرڈینیشن سینٹر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا اور اس کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جاتا رہے گا۔
بغداد اجلاس میں ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر اور بین الاقوامی شعبے کے سربراہ بریگیڈیر جنرل قدیر نظامی ، شام کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر میجر جنرل سلیم خلیل حربا، عراقی فوج کے ڈپٹی کمانڈر عبدالامیر یاراللہ اور روسی فوج کے ڈپٹی کمانڈر امیترا گوف سرگئی نے شرکت کی اور خاص طور پر شام میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جائزہ لیا۔
ایران روس عراق اور شام نے دوہزار پندرہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے ایک چار جانبہ اتحاد تشکیل دیا تھا اور اس سلسلے میں اب تک فوجی عہدیداروں کے کئی اجلاس ہوچکے ہیں تاہم ڈپٹی کمانڈروں کی سطح کا یہ پہلا اجلاس تھا۔