ایران کو شام میں فوجی بیس کی ضرورت نہیں
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سنیئر ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کو شام میں فوجی بیس کی کوئی ضرورت نہیں جس پر کوئی ملک حملہ کرے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سنیئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے آج ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی عراق و شام میں مداخلت کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو شام میں کسی فوجی بیس کی ضرورت نہیں ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران شام اور عراق کی حکومتوں کی باضابطہ درخواست پر انھیں فوجی مشاورت فراہم کر رہا ہے لہذا ایران کی ان ممالک میں موجودگی بالکل قانونی ہے.
بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے شام میں ایران اور روس کے درمیان تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک عسکری مشاورت کے حوالے سے تعاون کررہے ہیں.
ایرانی مسلح افواج کے سنیئر ترجمان نے ایران کے حالیہ میزائل تجربے پر امریکی الزام کے حوالے سے کہا کہ ایران اپنی میزائل سرگرمیوں پر کسی کے سامنے جوابدہ نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے ہمیں کسی ملک سے اجازت لینے کی ضرورت ہے۔
جنرل شکارچی نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لئے اپنی میزائل صلاحیت میں مزید اضافہ کرے گا.انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میزائل پروگرام اسلامی جمہوریہ کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے لہذا ملکی دفاع کو مزید ناقابل تسخیر بنانے کے لئے اس شعبے میں پیداوار اور اسے فروغ دینے کا سلسلہ جاری رہے گا.