شام میں امریکہ کی موجودگی شروع سے ہی غیر قانونی تھی، ایران
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے داعش کے خلاف کوئی جنگ نہیں کی ہے اور شام میں امریکہ کی فوجی موجودگی سے شام کی حکومت یا قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے اور نہ ہی امریکہ کی یہ فوجی موجودگی شامی حکومت کی مرضی سے رہی ہے۔
ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کو المیادین ٹی وی سے گفتکو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں امریکہ کی فوجی موجودگی شروع سے ہی غیر قانونی رہی ہے اور شام میں امریکی منصوبے کے بارے میں زیادہ اطلاعات نہیں ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے انیس دسمبر کو اعلان کیا ہے کہ شام سے عنقریب امریکی فوجی باہر نکال لئے جائیں گے۔محمد جواد ظریف نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں بھی کہا کہ اس بین الاقوامی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد ایران کے پاس کئی آپشن موجود ہیں اور ایران اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر ان سے استفادہ کرے گا۔ ایران کے وزیرخارجہ نے کہا کہ یورپی ملکوں کو چاہئے کہ ایٹمی معاہدے کے دائرے میں اپنے وعدوں پرعمل کریں اوراگر انھوں نے عملی اقدامات نہ کئے تو ایران ان کا منتظر نہیں رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ علاقے کے ملکوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے دوری اختیار نہ کرتے ہوئے علاقے کی سلامتی کو مشترکہ طور پر تحفظ فراہم کریں۔
وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن کے خلاف جنگ میں دسیوں ارب ڈالر صرف کئے مگر اسے کچھ ہاتھ نہیں لگا۔
ایران کے وزیرخارجہ نے شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے امکان کے بارے میں بھی کہا کہ تہران دہشت گردانہ کارروائی کے سلسلے میں انقرہ کی تشویش کو سمجھتا ہے تاہم حکومت دمشق کی رضامندی کے بغیر شام میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے بحران کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔