امریکی صدر ٹرمپ کے اقدام پر ایرانی عہدیداروں کا ردعمل
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر فوجی اور اقتصادی دہشت گردی کی علامت ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ (مجلس شورای اسلامی) کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے منگل کے روز ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دیا جانا اس حکومت کی گہری جہالت اور کینہ پروری کی علامت ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹرعلی لاریجانی نے سپاہ پاسداران کے قومی دن پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اس طرح کا غلط رویہ اس کی جہالت اور بے وقوفی کی نشاندہی کرتا ہے۔ڈاکٹرعلی لاریجانی نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے علاقے میں بڑی طاقتوں کے حمایت یافتہ دہشتگردوں اور اسی طرح صدام کے لئے عالمی طاقتوں کی حمایت کے باوجود ان پر کاری ضربیں لگائیں اور ایثار و فداکاری کا بہترین نمونہ پیش کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں بڑی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بننے والے دہشت گردوں نے علاقے کو آگ و خون میں تبدیل کردیا تھا لیکن سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ان دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی حکام کی توجہ پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے اس بیان کی جانب مبذول کرائی جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ بنیادی طور پر افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی تشکیل میں امریکہ کا ہاتھ تھا، لہذا آج امریکہ کو دہشت گرد گروہوں کے بانی اور حامی ہونے کے ناطے جوابدہ ہونا چاہئیے۔ایران کی پارلیمنٹ کے اجلاس کے موقع پر اراکین پارلیمنٹ نے ایسی حالت میں کہ انھوں نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی وردی پہن رکھی تھی امریکہ مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی ایران کے ٹی وی چینل دو سے خصوصی گفتگو میں امریکہ کی جانب سے دشمنانہ اقدام کے تحت سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب اس کے بعد سے ایران بھی علاقے میں امریکی فوجیوں اور ان کے اڈوں کو دہشت گرد اور دہشت گردانہ اڈے سمجھے گا۔
ایران کے خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ ڈاکٹر کمال خرازی نے بھی امریکہ کی جانب سے دشمنانہ اقدام کے تحت سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دیئے جانے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے اس اقدام سے صورت حال بالکل تبدیل ہو گئی ہے اور اب ایران بھی امریکی فوجیوں کے ساتھ ویسا ہی رویہ اختیار کرے گا۔ انھوں نے خلیج فارس میں امریکی فوجیوں کی آمد و رفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر ہے اور ایسی صورت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔