دشمن قوتیں نئی سازشوں میں مصروف ہیں، لاریجانی
Oct ۲۹, ۲۰۱۹ ۱۵:۵۸ Asia/Tehran
اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں استقامتی محاذ سے شکست کے بعد دشمن قوتیں نئی سازشوں میں مصروف ہوگئی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے صوبہ سمنان کی دامغان یونیورسٹی میں عالم غربت میں مجاہدت کرنے والے استقامتی سپاہیوں کی یاد میں منعقدہ بین الاقوامی اجلاس سے خطاب میں مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی استقامت نے صیہونی حکومت پر خوف و وحشت طاری کردی ہے۔
ایران کے اسپیکر نے کہا کہ اس خطے میں استقامتی محاذ قائم ہونے کی اہم ترین وجہ دشمنوں کا طرز عمل ہے۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں اس خطے کے عوام کے سامنے استقامت و مزاحمت کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ استقامتی محاذ سے شکست کھانے کے بعد اب دشمنون نے علاقے کے خلاف نئی سازشیں شروع کردی ہیں۔
اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ آج دشمنوں کو استقامتی محاذ کی طاقت و توانائی کا پتہ چل گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ دشمن استقامتی محاذ کےخلاف انواع و اقسام کی سازشوں میں مصروف ہیں لیکن ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔
ایران کے اسپیکر نے کہا کہ استقامتی محاذ کے سپاہی اسلامی ملکوں میں اپنی مجاہدت اور مزاحمت میں تنہا نہیں ہیں بلکہ ان کی مجاہدت مغربی ایشیا کی موثر ترین تحریک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی ایشیا کے حالیہ چند برسوں کے تغیرات امریکا سمیت تمام بیرونی طاقتوں اور دشمنوں کی شکست کی نشاندہی کرتے ہیں۔
شام اور اس کے بعد عراق میں بحران پھیلانے کی سازش میں امریکا کی ناکامی اس شکست کا واضح ترین نمونہ ہے۔
امریکا نے داعش سمیت مختلف دہشت گرد گروہ تشکیل دے کے عراق اور شام میں اپنی سازشوں پر عمل کرنا چاہا لیکن تحریک استقامت اور ان ملکوں کے عوام کی مزاحمت نے داعش اور دیگر تکفیری دہشت گرد گروہوں کو شکست دے کر امریکا کی سازشوں کو نقش برآب کردیا۔
جب امریکا داعش کے ذریعے بغداد اور دمشق کے سقوط کی سازشوں میں ناکام ہوگیا اور امریکا نیز اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں استقامتی محاذ کی برتری ثابت ہوگئی تو امریکا نے نئی سازشیں تیار کیں۔ عراق میں حالیہ دنوں میں ہونے والے حالیہ ہنگاموں کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
مغربی ایشیا کی اقوام کے دشمن اس خطے کے اسلامی ملکوں کو سیاسی اور سیکورٹی کے بحران میں مبتلا کرنے کے لئے، ہر اقدام اور سازش سے کام لے رہے ہیں۔ داعش اور جبہت النصرہ جیسے خطرناک ترین دہشت گرد گروہوں کی تشکیل اور تقویت کے ذریعے اپنے اہداف کے حصول میں ناکامی کے بعد اب وہ ، عوامی مطالبات اور مظاہروں کو اغوا کرکے، مظاہروں کو شورش اور بلوے میں تبدیل کرکے مغربی ایشیا میں ایک نیا بحران کھڑا کرنے کی سازش پر عمل کررہے ہیں۔
چنانچہ لبنان اور عراق سمیت اس خطے کے بعض ملکوں میں عوام کے برحق اقتصادی اور اصلاحات کے مطالبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور خاص طور پر عراق میں جس طرح سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے، اس سے مغربی ایشیا کے لئے امریکا، صیہونی حکومت اور رجعت پسند عرب حکومتوں کے منحوس مثلث کی نئی سازشوں کا پتہ چلتا ہے۔
ٹیگس