پولیس اکیڈمی پر حملہ طالبان نے کیا۔ ذبیح اللہ مجاہد
Aug ۰۸, ۲۰۱۵ ۰۹:۱۷ Asia/Tehran
طالبان کے ترجمان نے ایک بیان جاری کرکے جمعے کی شام کابل میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان جاری کر کے کابل میں واقع پولیس اکیڈمی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس واقعے میں بیس افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ کابل پولیس کے سربراہ عبدالرحمان رحیمی نے جمعے کی شام ہونے والے خودکش حملے کے بارے میں کہا ہے کہ طالبان کے ایک جنگجو نے اس اکیڈمی میں زیر تعلیم کیڈٹوں کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں بیس کیڈٹ ہلاک اور بیس دیگر زخمی ہو گئے۔ ایک سیکورٹی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔ یہ خودکش حملہ، افغان دارالحکومت کابل میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران ہونے والا دوسرا دہشت گردانہ دھماکہ تھا۔ پہلا دھماکہ، افغان وزارت دفاع کے قریب ایک ٹرک کے ذریعے کیا گیا جس میں پندرہ عام شہری ہلاک اور دو سو سے زائد دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ طالبان نے اس حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔