عراق سے ترک فوجیوں کا انخلا شروع
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i201864-عراق_سے_ترک_فوجیوں_کا_انخلا_شروع
عراق کے سیکورٹی ذرائع نے عراقی علاقے موصل سے ترک فوجیوں کے انخلا کی خبر دی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۱۴, ۲۰۱۵ ۱۳:۲۹ Asia/Tehran
  • ترک فوجی پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے عراقی علاقے بعشیقہ سے ترکی کے لئے روانہ ہوگئے۔
    ترک فوجی پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے عراقی علاقے بعشیقہ سے ترکی کے لئے روانہ ہوگئے۔

عراق کے سیکورٹی ذرائع نے عراقی علاقے موصل سے ترک فوجیوں کے انخلا کی خبر دی ہے۔

براثا خبر رساں ایجنسی نے عراق کے سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ عراقی حکومت اور عوام کے احتجاج کے بعد، ترک فوجی عراق کے شمالی صوبے نینوا کے صدر مقام موصل کے نزدیکی علاقے بعشیقہ سے اپنے ساز و سامان کے ساتھ ترکی واپس چلے گئے ہیں۔

عراق کے ایک رکن پارلیمنٹ سالم الشبکی نے بھی کہا ہے کہ ترک فوجی پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے عراقی علاقے بعشیقہ سے ترکی کے لئے روانہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ بغداد حکومت اور عراقی کردستان علاقے کی مقامی انتظامیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بنیاد پر ترک فوجیوں نے انخلا کیا ہے اور صرف کچھ فوجی مشیر وہاں باقی رہیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ ترکی نے حال ہی میں عراقی حکومت کی اجازت اور ہم آہنگی کے بغیر اپنے فوجی موصل کے نزدیکی علاقے بعشیقہ میں بھیج دیے تھے اور ترکی کا یہ اقدام بغداد اور انقرہ کے تعلقات میں کشیدگی کا سبب بنا۔ بغداد حکومت نے عراقی علاقے میں ترک فوجیوں کی موجودگی کو عراقی اقتدار اعلی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور عراقی علاقے سے ترک فوجیوں کے انخلا پر زور دیتے ہوئے خبر دار کیا تھا کہ اگر ترک فوجی عراق سے واپس نہیں گئے تو پھر ان فوجیوں کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جائے گا جو غاصب فوجیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔