شام: فوج کی کارروائیوں میں دہشت گردوں کا بھاری نقصان
شام کے مختلف علاقوں میں ہونے والی فوجی کارروائیوں میں دہشت گردوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔
شامی فوج نے شام کے مختلف علاقوں میں پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے حمص و حماہ کے مضافات اور دیرالزور کے علاقوں میں داعش گروہ کے ٹھکانوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔
ان حملوں میں دہشت گردوں کو بھاری مالی نقصان بھی پہنچا۔
شامی فوج اور عوامی رضاکار دستوں نے دہشت گرد گروہوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں پچھلے کئی مہینوں سے وسیع پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے متعدد علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
ادھر خبری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ شام کے وسط میں واقع صوبہ حمص میں ایک سو پندرہ شامی حکومت مخالف مسلح افراد نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ صوبہ حمص میں قومی آشتی کے انچارج طلال الناصر نے کہا کہ سرکاری اور عوامی ادارے ایسے مزید افراد کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو حالیہ برسوں میں ہونے والے واقعات میں شامل تھے لیکن بےگناہوں کے قتل میں وہ ملوث نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ افراد اپنی صورت حال پر نظر ثانی کرنے کے بعد تعمیر نو اور دفاع کے لئے اپنے وطن کی آغوش میں آ رہے ہیں۔ دریں اثنا شام کے داخلی مخالفین کے اتحاد نے، جس نے شامی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے لئے ایک وفد جنیوا بھیجا ہے، دمشق میں ایک اجلاس منعقد کیا ہے۔
اس اجلاس میں شرکت کرنے والوں نے ایک جمہوری، وسیع البنیاد اور عدل و انصاف اور مساوات کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل کی غرض سے شام میں جمہوری بنیادوں پر تبدیلیوں کی کوشش جاری رکھنے پر زور دیا۔ اجلاس میں شریک ایک لیڈر نے کہا کہ بعض داخلی مخالفین کو پارلیمانی انتخابات کے لئے امیدوار بنانے کا ارادہ ہے۔
شام کے داخلی مخالفین کے اتحاد میں شامل سوشلسٹ پارٹی کے ایک لیڈر طارق الاحمد نے کہا کہ ہم پارلیمانی انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے کریں گے اور شام میں اصلاحات کے بارے میں ہونے والی بات چیت کو اپنی شرکت کے بغیر ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے رواں مہینے اپریل میں شام میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے متعلق اپوزیشن پارٹیوں کے موقف کے بارے میں کہا کہ پارلیمانی انتخابات کے لئے ہم نے امیدوار نامزد کر دیئے ہیں اور مجھے بھی امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔
طارق الاحمد نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ کامیابی کے ساتھ عمل کرے گی اور یہ انتخابات مقررہ وقت پر انجام پائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے بعد سے اصلاحات، آئین، انتخابی قوانین، پارٹیوں سے متعلق قوانین یا اصلاحات سے متعلق کسی بھی طرح کی بات چیت کو، جس میں شام کے داخلی مخالفین کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو، ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے شام کے داخلی اور بیرونی مخالفین کے خیالات میں نزدیکی پیدا کرنے اور ان کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کے امکان کے بارے میں کہا کہ اندرون ملک ہمارے دوستوں نے یا داخلی مخالفین نے شام کے مسئلے کو ایک قومی مسئلے کے طور پر لیا ہے اور عوامی زندگی کے بارے میں اور بعض جو منصوبے پیش کئے ہیں ان میں انہوں نے حکومت پر اعتراض کیا ہے اور یہ مخالفین کا حق ہے لیکن قدم قومی راستے پر بڑھانا چاہئے۔ طارق الاحمد نے بیرون ملک مقیم مخالفین کے بارے میں کہا کہ ان کے ساتھ اختلاف ہونا فطری بات ہے کیونکہ وہ جن ممالک میں رہتے ہیں ان کے مطابق عمل کرتے ہیں اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔
انہوں نے جنگوں کے نقشے میں تبدیلی اور اس بارے میں مخالف پارٹیوں کے موقف کے سلسلے میں کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ تدمر کی آزادی اور دیرالزور اور عراق میں اسٹریٹیجک محاذ پر ملنے والی کامیابی شام پر دباؤ کے ذریعہ مذاکرات پر مبنی امریکا اور اس کے اتحادیوں کی پالیسی ناکام ہونے کا باعث بنی اور اسی بنا پر امریکا پسپائی پر مجبور ہوا۔