مشرقی عراق میں داعش دہشت گردوں کے اندرونی اختلافات
عراق کے صوبے دیالہ کی صوبائی کونسل کی سلامتی کی کمیٹی کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ صوبے دیالہ میں داعشی دہشت گردوں میں اندرونی اختلافات کے نتیجے میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔
براثا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق کے صوبے دیالہ کی کونسل کی سلامتی کمیٹی کے سربراہ شیخ صادق الحسین نے کہا ہے کہ صوبے میں داعشی دہشت گردوں میں انتشار کی کیفیت ہے اور اس گروہ میں اس وقت دیالہ میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اس دہشت گرد گروہ کو منظم کر سکے جس کی بنا پر اس گروہ میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عراقی انٹیلی جینس کے پاس ایسی مصدقہ اطلاعات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ صوبے دیالہ میں داعش دہشت گرد گروہ شدید اندرونی اختلافات سے دوچار ہے جس کی بنا پر شہر موصل میں دہشت گردوں کے مقابلے میں عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں کے لئے تیزی کے ساتھ پیشقدمی کا عمل آسان ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعشی عناصر، صوبے میں سرگرداں ہیں اور ان میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔
الحسینی کا کہنا ہے کہ صوبہ دیالہ، تقریبا دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد ہو چکا ہے اور اس دہشت گرد گروہ کی جانب سے جو تصاویر دکھائی جا رہی ہیں وہ جعلی ہیں۔
اس سے قبل صوبے دیالہ میں اہلسنت کے ادارہ اوقاف کے سربراہ طہ المجمعی نے اعلان کیا تھا کہ صوبے کی سیکورٹی کی صورت حال بہتر ہونے کے پیش نظر نماز اور دیگر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے مساجد کو کھولا جا رہا ہے۔
دوسری جانب شہر موصل کو آزاد کرائے جانے کی کارروائی کے دوران عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں نے مغربی موصل میں باب الطوب کے علاقے میں بازار اور بس ٹرمینل کو آزاد کرا لیا ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں کی جمعے کے روز انجام پانے والی اس کارروائی میں دسیوں دہشت گرد ہلاک و زخمی ہو گئے۔
دریں اثنا عراقی پولیس کے سربراہ رائد شاکر جودت نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ ان کی زیرکمان سیکورٹی اہلکاروں نے شہر موصل کے قدیمی علاقے کی طرف پیش قدمی شروع کردی ہے۔ ادھر عراقی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے کمانڈر ہادی العامری نے داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف اگلی کارروائی کے بارے میں کمانڈروں کے ساتھ تشکیل پانے والے اجلاس میں مختلف مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔
مغربی موصل میں عراقی فوج کی جانب سے داعش دہشت گرد گروہ کے مکمل محاصرے کے بعد عراق کی وزارت دفاع نے دہشت گردوں سے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔عراق کی وزارت دفاع کے ترجمان یحی رسول الزبیدی نے کہا ہے کہ عراقی فوج کے محاصرے میں گھرے دہشت گردوں کو چاہئے کہ ہتھیار ڈال دیں ورنہ انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔
اس ترجمان نے کہا ہے کہ عراقی سیکورٹی اہلکار، موصل کے مختلف قدیمی علاقوں میں پیش قدمی کر رہے ہیں اور عنقریب مغربی موصل کو بھی مکمل طور پر دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا جائے گا۔ عراقی فوجی ذرائع نے بھی اعلان کیا ہے کہ عراقی فوج نے عدالت روڈ پر واقع پاشا جامع مسجد اور باب السرای کے بازار کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ موصل کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائی انّیس فروری کو شروع ہوئی ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق عراق کی عوامی رضاکار فورس کے ترجمان احمد الاسدی نے العراقیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی مرجعیت کی ہدایات کے مطابق موصل کے آزاد شدہ علاقوں میں عوام کی امداد رسانی اور انھیں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔