یمن میں سعودی اتحادیوں کے دسیوں فوجیوں کی ہلاکت
یمن کے مختلف علاقوں منجملہ تعز، صرواح، المتون، البیضا، حرض اور میدی میں یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں کی کارروائیوں میں سعودی اتحاد کے دسیوں فوجی ہلاک و زخمی ہو گئے۔
یمن کے فوجی ذرائع کے مطابق تعز کے مشرقی علاقے میں یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے سعودی اتحاد کے فوجیوں میں ولید القادری نامی سرغنہ بھی شامل ہے۔
یمنی فوج اور انصاراللہ کے جوانوں نے صوبے تعز کے شہر ذباب میں الامام فوجی ٹھکانے پر بھی گولہ باری کی جہاں سعودی اتحاد کے فوجیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔
صنعا کے علاقے نہم میں السودا اور الشبکہ کے علاقوں میں غیر ملکی فوجیوں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے سعودی جارحیت کے جواب میں جنوبی سعودی عرب کے علاقے نجران میں القفال کے مشرق میں سعودی فوجیوں کی دو گاڑیوں کو بھی تباہ کر دیا جس میں سوار سبھی فوجی ہلاک ہو گئے۔
جنوب مشرقی سعودی عرب کے علاقے جیزان میں بھی المشرق فوجی مرکز پر گولہ باری کی گئی۔
اس سے قبل سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن کے صوبے الجوف میں المصلوب کے مضافاتی علاقوں منجملہ ملاحا پر بمباری کی جس میں کم از کم دس بچے زخمی ہو گئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب یمن کے علما نے سعودی عرب کی حالیہ جارحیت کی کہ جس میں درجنوں یمنی شہید و زخمی ہو گئے، شدید مذمت کی ہے۔
یمن کے شمالی صوبے صعدہ کے سحار نامی علاقے کے علاف بازار پر یکم نومبر کو سعودی جنگی طیاروں کی بمباری میں 17 یمنی شہید اور 6 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
یمن کے علما کی انجمن نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ اس قسم کے غیر انسانی حملوں سے بخوبی دکھائی دیتا ہے کہ سعودی عرب کسی بھی قسم کی اخلاقی اور انسانی اقدار کے لیے اہمیت کا قائل نہیں ہے۔ اس بیان میں ظالموں کے خلاف فرزندان اسلام کی جدوجہد اور انھیں نکال باہر کرنے پر تاکید کی گئی ہے۔
تحریک انصاراللہ نے بھی ایک بیان میں یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو یمنی عوام کے قتل عام کا ذمہ دار قرار دیا۔