ایران کے خلاف عرب اتحاد کے قیام کا سعودی خواب
قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ اس اجلاس کے اختتامی بیان میں ایران اور حزب اللہ کے خلاف بے بنیاد سعودی الزامات کی تکرار کی گئی ہے۔
عرب کے لیگ کے اختتامی بیان میں جو ریاض کی جانب سے ڈکٹیٹ کیا گیا اور جسے عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے پڑھ کر سنایا، ایران پر علاقے میں بدامنی پھیلانے اور مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔اس اجلاس میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنے ملک کے بار بار کے بے بنیاد الزام کی تکرار کرتے ہوئے یہ جھوٹا الزام عائد کیا کہ یمنی فوج کی جانب سے سعودی عرب پر داغا جانے والا بیلسٹک میزائل ایران نے ہی اسے فراہم کیا ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب پر داغا جانے والا بیلسٹیک میزائل سعودی بادشاہت پر بار بار کے ایرانی حملوں کا آئینہ دار ہے۔انھوں نے دعوی کیا کہ ایرانی آلہ کاروں یعنی حوثیوں کی جانب سے اب تک ایرانی ساخت کےاسّی بیلسٹک میزائل سعودی عرب پر فائر کئے جا چکے ہیں۔سعودی عرب کی ایران مخالف کوششوں اور ایران کے خلاف بے بنیاد دعوے کے لئے عرب لیگ کو ذریعہ بنائے جانے سے علاقے میں سعودی عرب کی جارحانہ پالیسیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس سے قبل بھی خلیج فارس تعاون کونسل اور عرب لیگ کے دائرے میں اس قسم کے منظم اقدامات عمل میں لائے جا چکے ہیں۔شام، لبنان اور یمن میں سعودی عرب کی جارحانہ پالیسیاں اور علاقے میں بدامنی پھیلانے سے متعلق ایران کے خلاف عائد کیا جانے والا الزام، علاقے میں سعودی حکمرانوں کی جنون آمیز مداخلت اور احمقانہ جنگ کی پردہ پوشی کے لئے سعودی عرب کی دفاعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔دوسری جانب یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس بات کی پہلے سے ہی توقع کی جا رہی تھی کہ عرب لیگ کا یہ اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گا۔محمد علی الحوثی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ سعودی عرب، عرب لیگ کے اس اجلاس میں صرف یہ بتانے کے لئے گیا تھا کہ اس کے ہاتھ بندھے نہیں رہیں گے۔انھوں نے کہا کہ اس اجلاس میں توقع کی جا رہی تھی کہ حزب اللہ لبنان کے خلاف الزام عائد کرنے کے بجائے غاصب صیہونی حکومت سے لاحق خطرات منجملہ اس کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں گفتگو اور صیہونی حکومت کو ایک دہشت گرد حکومت کی حیثیت سے متعارف کرایا جائے گا۔محمد علی الحوثی نے کہا کہ حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینا بالکل امریکی صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ جیسا اقدام ہے۔واضح رہے کہ قاہرہ میں عرب لیگ کے ورزرائے خارجہ کا یہ ہنگامی اجلاس سعودی عرب کی اپیل پر تشکیل پایا جس میں قطر، لبنان، عمان، متحدہ عرب امارات اور الجزائر کے وزرائے خارجہ نے شرکت بھی نہیں کی تاہم اس اجلاس کے اختتامی بیان میں جو سعودی عرب کے دباؤ اور اور اس کے ڈکٹیٹ سے تیار کیا گیا تھا، ایران اور حزب اللہ کے خلاف بے بنیاد، جھوٹے اور من گھڑت الزامات کی تکرار کی گئی ہے۔