شام کے بارے میں جنیوا مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیرختم
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i306677-شام_کے_بارے_میں_جنیوا_مذاکرات_کسی_نتیجے_پر_پہنچے_بغیرختم
شام کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ جنیوا میں جاری امن مذاکرات کا آٹھواں دور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۲:۳۷ Asia/Tehran
  • شام کے بارے میں جنیوا مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیرختم

شام کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ جنیوا میں جاری امن مذاکرات کا آٹھواں دور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا ہے۔

خبروں کے مطابق شامی حکومت اور مخالفین کے درمیان جنیوا میں جاری امن مذاکرات کے اختتام پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا نے صحافیوں کو بتایا کہ فریقین کے درمیان اختلافات بدستور باقی ہیں اور مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب اور شامی مذاکرات کار وفد کے سربراہ بشار جعفری نے کہا ہے کہ سعودی عرب سمیت شام مخالفین کی حمایت کرنے والے عرب اور مغربی ممالک مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔بشار جعفری نے واضح کیا کہ شام کی حکومت غیر مشروط مذاکرات چاہتی اور مخالفین کی جانب سے کسی بھی شرط کے تعین کی صورت میں وہ مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے۔اس سے پہلے شام کی حکومت نے کہا تھا کہ جب تک مخالفین ریاض اعلامیہ کو منسوخ نہیں کرتے اس وقت تک ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔سعودی عرب کے حمایت یافتہ شامی حکومت کے مخالفین نے ریاض میں ہونے والے آخری اجلاس میں جنیوا مذاکرات میں پیشرفت کو صدر بشار اسد کی برطرفی کو سے مشروط کیا تھا۔اسی شرط کو مد نظر رکھتے ہوئے شامی حکومت کا وفد ایک دن کے بعد جنیوا مذاکرات میں شامل ہوا تاہم مسلح مخالفین کی جانب سے اپنی ضد پر اڑے رہنے کے بعد، شامی وفد نے مذاکرات ختم کردیئے تھے۔جنیوا میں شامی حکومت اور اس کے مسلح مخالفین کے درمیان مذاکرات کے سات دور ہوچکے ہیں جبکہ آٹھواں دور اٹھائیس نومبر کو شروع ہوا تھا اور جمعرات کی شب کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔شام میں بحران کا آغاز سن دوہزار گیارہ میں اس وقت ہوا تھا جب امریکہ اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں نے صدر بشار اسد کی قانونی حکومت کو گرانے کے لیے مسلح کاروائیاں شروع کردی تھیں۔