غزہ پر اسرائیلی جارحیت، مزید فلسطینیوں کی شہادت
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i314595-غزہ_پر_اسرائیلی_جارحیت_مزید_فلسطینیوں_کی_شہادت
غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران مزید دو فلسطینی شہید اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۱۸, ۲۰۱۸ ۱۰:۳۷ Asia/Tehran
  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت، مزید فلسطینیوں کی شہادت

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران مزید دو فلسطینی شہید اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے اتوار کی صبح غزہ کے سرحدی علاقے رفاح پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو فلسطینی نوجوان شہید اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔

صیہونی فوج نے دعوی کیا ہے کہ فلسطینیوں کا ایک گروپ غزہ کی سرحدوں پر نصب باڑ کے قریب بڑھ رہا تھا جسے روکنے کے لیے اسرائیلی ٹینکوں نے گولہ باری کر دی۔
فلسطین کی وزارت صحت نے بھی دو فلسطینی نوجوانوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے ٹیلی ویژن چینل دو نے بتایا ہے کہ غزہ پٹی کے ‍ قریب خان یونس کے علاقے میں ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والا صیہونی فوجی ہلاک ہو گیا۔
درایں اثنا جہاد اسلامی فلسطین کے ترجمان داؤد ابوشہاب نے خان یونس کے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے خلاف اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات کے مقابلے میں خان یونس کا حملہ بہت معمولی کارروائی ہے تاہم اس سے فلسطینی تنظیموں کی آمادگی کا اظہار ہوتا ہے۔
فلسطین کی عوامی مزاحمتی کمیٹیوں نے بھی اعلان کیا ہے کہ خان یونس میں کارروائی، غزہ کی مشرقی سرحدوں پر اسرائیل کی پے در پے جارحیت کا جواب ہے۔
فلسطین کی عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مزاحمتی قوتیں پوری طرح ہوشیار ہیں اور اسرائیل کی جارحیت کے مقابلے میں عوام کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے خلاف اسرائیل نے کسی بھی حماقت کا ارتکاب کیا تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری بھی اس پر عائد ہو گی اور مزاحمتی قوتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے بجائے پوری قوت کے ساتھ صیہونیوں کا جواب دیں گی۔
ادھر عرب انسانی حقوق نامی تنظیم کے سربراہ نے غزہ کی صورتحال کے بارے میں خـبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے غزہ میں انسانی اور اقتصادی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
 اسرائیل نے سن دو ہزار چھے سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے بھی غزہ کے خلاف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے علاقے کی صورت حال دھماکہ خیز ہو گئی ہے۔