یمن پر سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت، 8 شہید و زخمی
سعودی عرب کی یمن پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور عالمی اداروں نے ڈرامائی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
العالم کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی یمن پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبہ الحدیدہ پر سعودی عرب کی تازہ بمباری میں 6 شہری شہید ہوگئے ہیں۔ یمنی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے جنگي طیاروں نے الحدیدہ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 6 افراد شہید اور 2 دیگر زخمی ہوگئے۔
سعودی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جنوبی سعودی عرب میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانون نے جیزان اور عسیر کے علاقوں میں واقع سعودی فوجی اڈوں پر حملہ کر کے متعدد سعودی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
یمنی فوج کے نشانہ بازوں نے نجران کے علاقے میں واقع شرفہ نامی فوجی اڈے میں کارروائی کی جس میں کم سے کم دو سعودی فوجی ہلاک ہو گئے۔عسیر کے علاقے علب میں بھی یمنی فوج کے جوانوں نے فائرنگ کر کے ایک سعودی فوج کو ہلاک کر دیا۔یمن کی عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے ہفتے کے روز جیزان کے علاقے میں سفوجی کنوائے کے راستے میں بم کا دھماکہ کیا جس میں سعودی فوج کی ایک گاڑی تباہ اور اس کے متعدد فوجی ہلاک ہوگئے۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانون نے نجران کے علاقے میں سابق صدر منصور ہادی کے فوجیوں کے ایک ٹھکانے پر گولہ باری کی ہے جس میں متعدد فوجی مارے گئے۔سعودی عرب نے امریکہ کی ایما پر مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس کے نتیجے میں اس ملک کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو کے رہ گیا ہے۔
سعودی جارحیت کی وجہ سے یمن کی ساٹھ فی صد آبادی کو قحط، بھوک مری اور بیماریوں کا سامنا ہے اور ہیضہ اور ڈیفتھیریا جیسی بیماریاں وبائی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن میں اب تک ڈیفتھیریا کے ایک ہزار تین سو کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں سے ستر سے زائد افراد اس بیماری کی وجہ سے مارے جا چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے جاری حملوں اور جنگ کو یمن میں بیماریوں کے پھیلاؤ اور بے سرو سامانی کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یمن کو اس وقت تاریخ کے بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے جسے فوری طور پر روکے جانے کی ضرورت ہے۔