صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں ایک اور فلسطینی نوجوان شہید
صیہونی فوجیوں نے اپنی جارحیتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے غرب اردن کے شہر الخلیل میں ایک اور فلسطینی نوجوان کو شہید کردیا ہے۔ اس درمیان فلسطینی گروہوں اور شخصیتوں نے صیہونی فوج کے ہاتھوں ایک نوجوان فلسطینی نرس کی شہادت پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
فلسطین کے انفارمیشن سینٹر نے خبردی ہے کہ صہونی فوجیوں نے غرب اردن کے شہرالخلیل میں جناب ابراہیم پیغمبر کے روضے کے قریب ایک فلسطینی نوجوان رامی صبارنہ کو گولی مار کر شہید کردیا۔ صیہونی فوجیوں نے دعوی کیا ہے کہ یہ فلسطینی نوجوان ان پر اپنی کار چڑھا کر حملہ کرنا چاہتا تھا جبکہ عینی شاہدین نے صیہونی فوجیوں کے اس دعوے کو جھوٹ قراردیا ہے۔
اس درمیان فلسطینی گروہوں اور شخصیتوں نے گذشتہ جمعے کو واپسی مارچ کے دوران ایک نوجوان فلسطینی نرس کی صیہونی فوج کے ہاتھوں شہادت پر اپنا سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واپسی مارچ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
صیہونی فوجیوں نے نوجوان فلسطینی نرس رازان النجار کو جب وہ ایک زخمی فلسطینی کو طبی امداد پہنچارہی تھی گولی مار کر شہید کردیا تھا۔
فلسطین کے وزیرصحت جواد عواد نے صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی نرس کی شہادت کو جنگی جرم قراردیا اور عالمی برادری سے کہا کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت میں فوری اور عملی قدم اٹھائے۔
فلسطین کی وزارت قانون نے بھی اپنے بیان میں فلسطینی نرس پر صیہونی فوج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ حملہ صیہونی حکومت کے مجرمانہ اقدامات کی ایک اور مثال ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل منصوبہ بند طریقے سے فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے۔
فلسطینی تنطیموں الفتح اور جہاد اسلامی نے بھی صیہونی فوج کے ہاتھوں اکیس سالہ فلسطینی نرس کی شہادت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کا واپسی مارچ اس عزم کا اظہار ہے کہ فلسطینی عوام غاصب صیہونی حکومت کے مقابلہ کرنے کے لئے ہر طرح سے تیار ہیں۔
دوسری جانب فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک جہاد اسلامی نے کہا ہے کہ امریکا نے علاقے میں اپنے خودسرانہ اقدامات اور خاص طور پر بیت المقدس کے بارے میں من مانی کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ عرب ملکوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور نہ ہی وہ عرب عوام اور حکومتوں کی خواہشوں کا کوئی احترام کرتا ہے، فلسطینی تحریک جہاد اسلامی کے سیاسی دفتر کے رکن نافذ عزام نے کہاکہ امریکا نے یوم نکبہ پر اپنا دارالحکومت تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ عرب ملکوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔
جہاد اسلامی کے رہنما نے کہا کہ اب اس صورتحال میں عرب حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکا کی اس قسم کی پالیسیوں کے مقابلے میں ڈٹ جائیں۔ جہاد اسلامی کے رہنما نے واپسی مارچ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات اور بعض عرب حکومتوں کی سازشوں کی باوجود فلسطین کے جیالے اور بہادر عوام اپنے حقوق کی بازیابی تک واپسی مارچ کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے ذریعے واپسی مارچ سے دستبردار ہونے کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبریں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔