یمن، کون سنے درد دل!!!!
Oct ۲۴, ۲۰۱۸ ۰۹:۵۷ Asia/Tehran
یمن کے ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچے اور ملکی آبادی کے 18برس سے کم عمر 80 فیصد بچے غذا کی کمی، بیماریوں اور بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کی وجہ سے شدید خطرات کا شکار ہیں۔
یمن میں اندازاً 18 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جن میں سے تقریباً 4 لاکھ غذا کی شدید کمی کا شکار ہیں اور روزانہ اپنی زندگی کی جنگ لڑرہے ہیں۔
خیال رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مشترکہ اتحاد نے 2015 میں یمن کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا ۔
2 کروڑ 80 لاکھ افراد پر مشتمل یمنی آبادی جنگ کے باعث بدترین انسانی بحران کا شکار ہے ، جہاں 84 لاکھ افراد بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ 2 کروڑ 20 لاکھ افراد امداد پر انحصار کرتے ہیں۔
ٹیگس