سعودی اتحاد کے خلاف یمنی فوج کی جوابی کارروائی
سعودی اتحاد کی جارحیت کا نیا دور شروع ہونے پر یمنی فوج کی جوابی کارروائی سعودی حکومت کے لئے ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گئی ہے اور یہ تبدیلی یمنی عوام کے برحق دفاع کے تناظر میں قابل بیان ہے۔
سعودی اتحاد کی جارحیت کا منھ توڑ جواب دیتے ہوئے یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جنوبی سعودی عرب کے علاقے جیزان میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر زلزال دو قسم کے چار میزائل فائر کئے۔
یمنی فوج نے اسی طرح جنوبی سعودی عرب کے علاقے نجران میں السدیس کے علاقے میں سعودی فوج کی ایک گاڑی کو گائیڈڈ میزائل کا نشانہ بنا کر اسے تباہ کر دیا۔
یہ حملہ الحدیدہ میں سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں کیا گیا۔ سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں کی جارحیت کے نئے دور میں الحدیدہ میں دسیوں افراد خاک و خون میں غلطاں ہو گئے۔
سعودی اتحاد نے یمن کو جھکنے پر مجبور کرنے کے ساتھ ساتھ یمنی عوام پر دباؤ ڈالتے ہوئے جون سے شدید حملوں کا سلسلہ شروع کیا اور الحدیدہ پر قبضہ جمانے کے لئے ہر طرح کی جارحیت کا ارتکاب کیا۔ تاہم یمنی فوج اور یمن کی عوامی رضاکار فورس نیز یمنی عوام کی استقامت کے نتیجے میں سعودی اتحاد کی ساری منصوبہ بندی ناکام ہو گئی اور اس کا کوئی بھی مقصد پورا نہ ہو سکا اور سعودی اتحاد کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑی۔
یمن کی عوامی رضاکار فورس نے اپنی مقامی توانائی پر انحصار کرتے ہوئے مختلف قسم کے میزائل تیار کر کے سعودی اتحاد کی جارحیت کا جواب دینا شروع کیا اور جنگ کے دائرے کو جنوبی سعودی عرب تک وسیع کر دیا۔
اس صورت حال نے جنگ کے حالات کو ہی تبدیل کر دیا جن سے سعودی اتحاد کی شکست نمایاں ہونے لگی اور طاقت کا توازن یمنی عوام کے حق میں تبدیل ہونے لگا۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی اس کامیابی سے سعودی اتحاد اور اس کی حمایت کرنے والے بیرونی ممالک کی تشویش بڑھنے لگی۔
سعودی عرب اپنے اتحادی اور حامی ملکوں کے ساتھ اب صرف یمن میں اپنی شکست کا منھ دیکھ رہا ہے جس کی بنا پر اس کے اتحاد نے یمنی عوام خاص طور سے عورتوں اور بچوں پر اپنے حملے تیز کر دیئے ہیں۔
سعودی اتحاد نے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے ذرائع ابلاغ کا بھی سہارا لیا اور خاص طور سے الحدیدہ کے سلسلے میں وسیع پروپیگنڈہ مہم شروع کی مگر وہاں بھی سعودی اتحاد کو کچھ ہاتھ نہ لگ سکا اور اس کے سارے دعوے کھوکھلے نظر آنے لگے۔
سعودی عرب، جس نے یمن کے سلسلے میں امریکہ کی حمایت سے پورا ایک اتحاد تشکیل دے کر فوجی چڑھائی شروع کی تھی اب الحدیدہ سمیت یمن میں کہیں بھی اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اب بھی وہ صرف تشہیراتی یلغار سے اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر حملوں میں تیزی لائے جانے سے ایک بار پھر اس بات کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا کہ وہ یمن جنگ ختم کرنا چاہتا ہے۔ تاہم سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عومی رضاکار فورس کی جانب سے عمل میں لائے جانے والے اقدامات نہ صرف سعودی اتحاد کی کسی بھی طرح کی کامیابی میں رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں بلکہ سعودی عرب کے لئے ڈراؤنے خواب میں بھی تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔
چنانچہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے جوابی کارروائی یمنی عوام کے دفاع کے تناظر میں مکمل قابل جواز اور قابل بیان ہے۔