Nov ۲۹, ۲۰۱۸ ۱۸:۱۹ Asia/Tehran
  • سعودی فوجی ٹھکانوں پر یمنی فوج کے میزائل حملے

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جمعرات کو جنوبی سعودی عرب کے علاقے نجران میں سعودی آپاچی ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی کے اڈے اور سعودی فوجی ہوابازوں کے رہائشی کمپلکس پر میزائل فائر کئے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی سعودی عرب کے علاقے نجران میں سعودی آپاچی ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی کے اڈے اور سعودی فوجی ہوابازوں کے رہائشی کمپلکس پر بدر پی ون قسم کے کئی میزائل فائر کئے گئے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ یہ میزائل سعودی اتحاد کی جاری وحشیانہ کارروائیوں کے جواب میں کئے گئے، کہا کہ یہ میزائل ٹھیک اپنے نشانے پر جا کر لگے اور ان حملوں میں سعودی عرب کے دو فوجی ہواباز ہلاک اور کئی اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ ہو گئے۔

نجران پر داغے جانے والے میزائل اپنے ہدف اور آس پاس کے مقامات میں آگ لگنے کا بھی باعث بنے اور نتجے میں قریب میں موجودہ ہتھیاروں کے گودام بھی تباہ ہو گئے۔

یمن کے تمام تر محاصرے کے باوجود اس ملک کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور سعودی عرب کی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے جنوبی سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر جوابی حملے کئے جا رہے ہیں جن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو خاصا جانی و مالی نقصانات پہنچ رہے ہیں۔

دریں اثنا یمن کی قومی حکومت کے وزیر خارجہ ہشام شرف عبداللہ نے امریکہ کے بے بنیاد دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے ہرگز ہتھیار نہیں خریدے جا رہے ہیں اور بیلسٹک میزائل بھی سالوں قبل سابق سوویت یونین سے خریدے ہوئے ہیں اور یمنی فوج کی جانب سے مقامی سطح پر بھی معیاری ہتھیار تیار کئے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ مغربی ایشیا کے اس غریب عرب اسلامی ملک کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔

چوالیس ماہ سے جاری سعودی جارحیت اور محاصرے کی وجہ سے سولہ ہزار سے زائد یمنی شہری شہید اور دسیوں ہزار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

عالمی تنظیموں اور اداروں کی رپورٹوں کے مطابق اس وقت یمن کی ایک چوتھائی آبادی کو شدید ترین قحط کا سامنا ہے۔