خاشقجی کے قتل پرامریکی خاموشی سمجھ سے بالاتر: ترکی
ترکی کے صدرنے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر امریکہ کی خاموشی کو ناقابل فہم قرار دے دیا۔
ترکی کے سرکاری میڈیا ٹی آر ٹی ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے ترک صدررجب طیب اردوغان نے کہا کہ جمال خاشقجی کا قتل کوئی عام فعل نہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھے امریکا کی خاموشی سمجھ نہیں آرہی، اس ضمن میں ہم سب کچھ صاف و شفاف چاہتے ہیں کیونکہ جہاں انتشار ہے وہاں قتل ہے۔
واضح رہے کہ 2 اکتوبر 2018 کو جمال خاشقجی اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندرقتل کردیا گیا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والے جمال خاشقجی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں کے ناقد تھے اور اسی سلسلے میں انہوں نے سعودی عرب سے امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر رکھی تھی۔