لیبیا کے اندرونی معاملات میں سعودی مداخلت کی مذمت
لیبیا کی قومی وفاق کی حکومت نے سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت نیشنل آرمی گروپ کے کمانڈر خلیفہ حفتر کے تمام حامیوں سے اپنے موقف پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔
لیبیا کی قومی وفاق کی حکومت کے وزیراعظم فائز سراج نے سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے خلیفہ حفتر کی حمایت کے اعلان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ممالک کو خلیفہ حفتر کے بجائے لیبیا کے عوام کی حمایت کرنا چاہئے۔
قومی وفاق کی حکومت کے وزیراعظم فائز سراج نے ایک بار دارالحکومت طرابلس پر خلیفہ حتفر کی فوج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے مشروط جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
کسی بھی قسم کی جنگ بندی طرابلس سے خلیفہ حفتر کی فوجوں کے انخلا سے مشروط ہے۔
انہوں نے کہا کہ طرابلس سے خلیفہ حفتر کے فوجیوں کے انخلا سے پہلے کسی بھی قسم کی جنگ بندی قبول نہیں کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ لیبین نیشنل آرمی کے سے موسوم خلیفہ حفتر کی فوج نے کہ جس نے لیبیا کے مشرقی علاقوں پر تسلط قائم کر رکھا ہے پچھلے چند ماہ سے ملک کے شمالی علاقوں کی جانب پیشقدمی شروع کر دی ہے۔ خلیفہ حفتر کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بعض یورپی ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب لیبیا کے سیکڑوں شہریوں نے دارالحکومت طرابلس میں مظاہرے کر کے سعودی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی سفارت خانے کے سامنے کیے گئے اس مظاہرے میں شریک لوگوں نے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خلیفہ حفتر کی حمایت کرنا بند کر دیں۔
ایسے ہی مظاہرے مصراتہ شہر میں بھی کیے گئے جہاں لوگوں نے خلیفہ حفتر کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ بعض مظاہرین نے فرانس کی جانب سے بھی خلیفہ حفتر کی حمایت کیے جانے کی مذمت کی اور یلو جیکٹ پہن کر پیرس کے خلاف احتجاج کیا۔
درایں اثنا عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق پچھلے ایک ماہ سے جاری جھڑپوں میں چار سو کے قریب لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ دو ہزار کے قریب زخمی اور پچپن ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
لیبیا میں دارالحکومت طرابلس پر خلیفہ حفتر کی نیشنل آرمی کے حملوں کے آغاز سے خانہ جنگی میں شدت آگئی ہے۔ یہ حملے خلیفہ حفتر نے ریاض میں سعودی حکام سے ملاقات اور مذاکرات کے بعد شروع کئے ہیں۔