Jul ۰۶, ۲۰۲۲ ۱۶:۱۰ Asia/Tehran
  • شامی علاقوں پر ترک فوج کی گولہ باری

حکومت شام نے صوبہ حلب کے دیہی علاقوں پر ترک فوج کی گولہ باری کی شدید الفاط میں مذمت کی ہے۔ دوسری جانب شامی فوج نے صوبہ حسکہ میں دہشت گرد امریکی فوجی کنوائے کا راستہ روک کر اسے واپس جانے پر مجبور کردیا ہے۔

شامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ترک فوج نے صوبہ حلب کے کم سے کم دس دیہاتوں پر دوسو راکٹ اور توپ کے گولے داغے ہیں ۔ یہ گولہ باری صوبہ حلب کے جنوبی علاقے عفرین میں واقع ترک فوج کے ایک غیر قانونی اڈے سے کی گئی ہے۔ تاحال اس گولہ باری میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کےبارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی ۔ لیکن ترک ذرائع نے دعوی کیاہے کہ اس گولہ باری میں پی کے کے، کے دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ترک فوج نے جمعے کو صوبہ حلب میں شامی فوج کے ٹھکانوں کو بھی راکٹوں کا نشانہ بنایا تھا۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے پچھلے دنوں شمالی شام میں نیا فوجی آپریشن شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ 
ترک فوج نے کئی برس پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک فوجی آپریشن کے ذریعے شمالی اور شمال مشرقی شام کے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔ شامی عوام حکومت اور عالمی برادری کی جانب سے شامی علاقوں پر ترک فوج کے قبضے کے مذمت کی جاتی رہی ہے اور اسے شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ 
دوسری جانب شامی فوج نے مشرقی حسکہ میں دہشت گرد امریکی فوجی کنوائے کا راستے روک کر اسے واپس جانے پر مجبور کردیا، کہا جارہا ہے کہ پانچ امریکی بکتر بندگاڑیوں پر مشتمل ایک فوجی کنوائے مشرقی حسکہ میں ایک مقام سے گزرنا چاہتا تھا لیکن وہاں قائم شامی فوج کی ایک چیک پوسٹ پر تعینات فوجیوں نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد غاصب فوجیوں کو اپنا راستہ بدلنا پڑا۔ 
شام کے وزیر خارجہ فیصل مقدداد نے اپنے ملک میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ، ایک بات بڑی واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے اور جتنا جلد ممکن ہو امریکی فوجیو‍ں کو یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ شام اپنی سرزمین پر امریکی فوج کی موجودگی کو تادیر برداشت نہیں کرے گا۔ 
امریکی فوجی اور ان سے وابستہ دہشت گرد عناصر کافی عرصے سے شمالی اور شمال مشرقی شام میں موجود ہیں اور تیل اور گندم سمیت شام کے قدرتی ذخائر کی لوٹ کھسوٹ کے علاوہ عام شہریوں اور شامی سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف حملے بھی کرتے رہتے ہیں۔ 

ٹیگس