عراقی پناہ گزینوں کی وطن واپسی
-
بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عراقی پناہ گزینوں کی تعداد تقریبا چالیس لاکھ ہے-
عراق کے سیکڑوں در بدر خاندان جو کرکوک میں داعش کے دہشت گردانہ حملوں کے خوف سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے، اب وطن واپس آ رہے ہیں۔
السومریہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق کرکوک کے مقامی ذرائع نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ تقریبا ایک ہزار بے گھرعراقی جو الحویجہ میں داعش کے زیر کنٹرول علاقوں سے جان بچا کر چلے گئے تھے، اب شہرکوک میں واپس آگئے ہیں- الحویجہ، کرکوک کے جنوب مغرب میں پچپن کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے-
اس رپورٹ کے مطابق پناہ گزینوں میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بوڑھے شامل ہیں- درایں اثنا داعش کے زیرقبضہ علاقے حویجہ سے اپنی جان بچا کر بھاگنے والے عراقی پناہ گزینوں کے راستے میں ہونے والے دہشت گردانہ دھماکے میں نو افراد ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے ہیں- اس سے قبل داعش دہشت گرد گروہ نے حویجہ میں پندرہ عام شہریوں کو جان بچا کر بھاگنے والوں کی مدد کرنے کے الزام میں اغوا کرلیا تھا- داعش دہشت گرد گروہ، شہرحویجہ کے کئی شہریوں کو اپنے مقبوضہ علاقوں سے بھاگنے کے جرم میں ہولناک طریقے سے قتل کر چکا ہے-
صوبہ کرکوک کے جنوب مغربی شہر الحویجہ اور اس کے مضافاتی علاقے الرشاد، الریاض، العباسی اور الزاب پر دوہزارچودہ سے داعش دہشت گرد گروہ کا قبضہ ہے اور داعش یہاں کے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے- دوہزار چودہ میں عراق پر داعش کے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے اس ملک میں مہاجرت کی ایسی لہر آ گئی جس کی مثال اس ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں ملتی- بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عراقی پناہ گزینوں کی تعداد تقریبا چالیس لاکھ ہے-