میر جاوہ کا قدیمی کسٹم ہاوس
آج بھی یہ بوڑھی عمارت اپنی زندگی کے سو سال عبور کرنے کے باوجود اسی وقار اور متانت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کے تاریخی شہر زاہدان میں موجود آثار قدیمہ میں اگر سرحدی شہر میر جاوہ پر موجود کسٹم آفس کا ذکر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ میر جاوہ پاکستان سے ملحقہ سرحد پر واقع شہر ہے جس میں قاجاری دور کے فن تعمیر کا نفیس نمونہ یہی کسٹم آفس ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔

یہ شہر زاہدان سے ۷۵ کلومیٹر کے فاصلے اور پاکستان کی سرحد پر واقع ہے۔ اس لئے اسے اسٹریٹجک حیثیت حاصل ہے اور یہ شہر پاکستان سے ایران میں داخل ہونے کا ایک اہم دروازہ بھی شمار کیا جاتا ہے جہاں سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں سیاح، زائرین اور تاجر حضرات ایران میں داخل اور یہاں سے خارج ہوتے ہیں۔ تقریبا سو سال پہلے بنایا گیا کسٹم آفس ایرانی گن تعمیر کا شاندار نمونہ ہے جہاں آج بھی درآمدات اور برآمدات کے معاملات انجام دیئے جاتے ہیں۔

زاہدان سے میر جاوہ کے لئے ٹرین سورس کا آغاز سنہ ۱۹۲۱ میں ہوا اور ۹۶ کلومیٹر کی پٹری ایرانی ریلوے سسٹم کا حصۃ بنی۔ زاہدان کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ہی یہ عمارت بھی موجود ہے کہ جسے آض بھی زاہدان کسٹم ہاوس کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ قاچاری دور حکومت میں بننے والی اس عمارت کے علاوہ اور بھی دوسری عمارتیں ہیں کہ جو آج سے کئی دہائیوں پہلے تعمیر کی گئیں لیکن چونکہ کسٹم ہاوس سرحدی شہر میں واقع ایک ایسی عمارت تھی کہ جسے روزانہ کی بنیاد پر تجارتی امور انجام دینے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا تو اس بات نے اسکی شہرت میں دوچندان اضافہ کردیا۔

آج بھی یہ بوڑھی عمارت اپنی زندگی کے سو سال عبور کرنے کے باوجود اسی وقار اور متانت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔ اس عمارت میں ایک دفتری حصہ اور ایک بڑا ہال موجود ہے کہ جو تقریبا چھ سو میٹر پر مشتمل ہے۔ دفتری حصے میں کمرے بھی موجود ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب انہیں بھی اسٹور کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس عمارت کو سنہ ۲۰۱۷ میں قومی ورثہ کے درجہ دے دیا گیا ہے۔ جبکہ خاص تکنیک کے زریعے اسکی مرمت بھی انجام دی گئی ہے تاکہ اس کی اصل صورت باقی رہے۔