Aug ۰۲, ۲۰۱۶ ۱۷:۲۹ Asia/Tehran
  • سعودی عرب میں پاکستانی محنت کش نجات کے منتظر

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی محنت کشوں کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے وزیراعظم نواز شریف نے احکامات جاری کر دیئے۔

سعودی عرب میں سرگرداں ہزاروں پاکستانی ملازمین کو لاحق معاشی مشکلات کی خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ریاض میں پاکستانی سفارتی مشن کو تنخواہوں سے محروم اپنے ہم وطنوں کی دیکھ بھال کئے جانے کا حکم دیا ہے۔ پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے متاثرین کو کھانے پینے کے علاوہ علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کئے جانے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ وزارت خارجہ اور پاکستانی سفارتی مشن سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو پاکستانی شہری وطن واپس آنا چاہتے ہیں، انہیں فوری طور پر سفری سہولیات فراہم کی جائیں۔ "طیب بھٹی" نامی ایک پاکستانی شہری نے ارنا کو بتایا ہے کہ " سعودی اوجیہ کنسٹریکشن کمپنی" آل سعود کے دربار سے وابستہ لبنان کے سابق وزیراعظم "رفیق حریری" کی ملکیت ہے۔ اس کمپنی میں مجموعی طور پر ایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے تیس ہزار ملازمین کام کرتے ہیں کہ جنہیں سات آٹھ مہینے سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ طیب بھٹی کے بیان کے مطابق اس کمپنی میں کام کرنے والے پاکستانی ملازمین کی تعداد آٹھ ہزار ہے کہ جن کے پاسپورٹ بھی انہیں واپس نہیں کئے جا رہے ہیں جس کی بنا پر یہ لوگ، واپس وطن بھی نہیں پہنچ سکتے۔ طیب بھٹی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سرگراداں پاکستانی شہریوں کے پاس حتی اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ اپنے گھر والوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کرسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت پندرہ لاکھ سے زیادہ پاکستانی ملازمین انتہائی سخت حالت میں زندگی گزار ہے ہیں۔ دوسری جانب ہندوستانی ذرا‏ئع کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا کمی، یمن پر فوجی جارحیت، شام اور عراق میں مداخلت جاری رکھنے کے ساتھ ہی دہشت گردوں کی بڑے پیمانے پر مالی اور سیاسی حمایت کے سبب سعودی عرب دیوالیہ ہو گیا ہے۔ درایں اثنا ہندوستانی وزارت خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب میں معاشی بحران کے سبب ہزاروں ہندوستانی محنت کشوں کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا جس کی بنا پر ہزاروں مزدور اور ان کے گھر والے بھوک مری کا شکار ہوگئے ہیں۔" اخبار ایشیا ایج" کے مطابق سعودی عرب میں معاشی بحران کے سبب دس ہزار سے زیادہ ہندوستانی محنت کش بے روزگار ہو جائیں گے۔ اس وقت سعودی عرب میں تیس لاکھ ہندوستانی شہری کام کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جدہ میں ہندوستانی قونصل خانہ آئندہ چند روز کے دوران بے روزگار ہونے والے شہریوں کو وطن واپس لوٹانے کا اقدام کر رہا ہے۔