ناصرعباس شیرازی کی بازیابی کیلئےمظاہرے
پاکستان کے عوام نے آج نماز جمعہ کے بعد مختلف شہروں میں مظاہرے کر کے ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما ناصرعباس شیرازی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان کے مختلف شہروں من جملہ لاھور،ملتان،راولپنڈی،خیرپور،کوئٹہ اورکراچی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق آج پاکستان کے عوام خاص طور سے مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں اور رہنماوں نے نماز جمعہ سے پہلے اور نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کرکے فوری طور پرایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصرعباس شیرازی کی بازیابی کا مطالبہ کیا ۔ مظاہرین نے جن کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ تھے حکومت کے خلاف شدید نعرے لگائے۔
اس سے قبل کل مسلم لیگ (ق) کے صدراور سابق وزیر اعظم پاکستان چودھری شجاعت حسین نے ناصر شیزازی کے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی اورصوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ پراور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف پرمقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان عوامی تحریک، پیپلز پارٹی،تحریک انصاف، سنی تحریک، ایم کیو ایم،جماعت اسلامی سمیت کئی سیاسی اور مذھبی جماعتوں نے ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔جبکہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ناصر شیرازی کے اغوا پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی کے اغوا کار سرکاری اور ایلیٹ فورس کی گاڑیوں میں سوار تھے۔ ایک مذہبی و سیاسی جماعت کے ایسے مرکزی رہنما کو پنجاب حکومت کی ایما پراغوا کیا گیا ہے، جس پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ یا الزام نہیں۔ انہیں رانا ثناء اللہ کے خلاف پیٹیشن دائر کرنے پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ناصر شیرازی کا اغوا جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ناصر شیرازی کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوگی۔ ناصر شیرازی کی عدم بازیابی کی صورت میں پنجاب ہاؤس کے گھیراؤ سمیت متعدد دیگر آپشنز زیر غور ہیں۔
ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مغوی کے بھائی کی درخواست پر مقدمہ دائر کرنے سے پولیس نے انکار کر دیا ہے۔ اغوا کاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لئے ہم نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ ظالموں کے مقابلے میں ہم کبھی سرنہیں جھکائیں گے۔