دھرنے کو طاقت سے ختم کرانے کی تیاریاں
راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر جاری دھرنا تیرہویں دن میں داخل ہو گیا، انتظامیہ نے آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن بھی گزشتہ رات 10 بجے ختم ہوچکی ہے۔ ذرائع کے مطابق آپریشن سے پہلے ایک بار پھر مذاکرات سے معاملہ حل کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم مذہبی جماعت نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
ادھر ہائیکورٹ نے آج صبح تک ہر صورت دھرنا ختم کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے، جبکہ انتظامیہ نے اسلام آباد کے داخلی راستوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں دھرنا ختم کرانے کے لیے انتظامیہ نے آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، جڑواں شہروں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے فیض آباد اور آئی ایٹ کے مکینوں کو غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلنے اور لوگوں کو کل دکانیں نہ کھولنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دھرنے کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد انتظامیہ نے ہائیکورٹ کے حکم کی تعمیل کے لیے راولپنڈی اور گردونواح کی پولیس کو طلب کرلیا ہے۔
ممکنہ آپریشن کے لیے پولیس کے علاوہ ایف سی اور رینجرز کے دستے بھی الرٹ ہیں، پولیس، ایف سی اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے 5ہزار 800اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پولیس کےتازہ دم دستے، بکتربند گاڑیاں اور ایمبولینسز پہنچ گئیں، پولیس اہلکاروں نے آنسو گیس شیل سمیت دیگر تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعت کے دھرنے کے شرکا ملک اور دنیا کو غلط پیغام دے رہے ہیں اور اگر دھرنا ختم نہ ہوا تو حکومت کو مجبوراً عدالتی حکم پرعملدرآمد کرنا ہوگا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ قوم کو اسلام آباد دھرنے کے حوالےسے اعتماد میں لینا چاہتا ہوں، مذہبی جماعت کے دھرنے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے.
انہوں نے کہا کہ کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ ختم نبوت پر یقین نہ رکھے جب کہ پارلیمنٹ از خود ختم نبوت کی محافظ ہے، جس ترمیم پرتنازع اٹھا وہ وزیرقانون یا حکومت نے نہیں کی، تمام جماعتوں نے کی تھی، زاہد حامد نے حلف نامے کی بحالی کی سب سے پہلے حمایت کی اب حلف نامے کو اصل شکل میں بحال کردیا گیا ہے، حلف نامے کی اصل شکل میں بحالی کے بعد تنازع کھڑا کرنا بے بنیاد ہے۔