Jul ۰۲, ۲۰۲۰ ۰۷:۳۹ Asia/Tehran
  • عبادت کیا ہے ؟؟!!!

عَنْ مُعَمَّرِ بْنِ خَلَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ الرِّضَا ع يَقُولُ لَيْسَ الْعِبَادَةُ كَثْرَةَ الصَّلَاةِ وَ الصَّوْمِ إِنَّمَا الْعِبَادَةُ التَّفَكُّرُ فِي أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ.

ترجمہ:

معمَّر بن خلَّاد كہتے ہيں كہ ميں نے فرزند رسول حضرت امام علی رضا عليہ السلام كو يہ فرماتے سُنا : 
عبادت صرف نماز پڑھنا اور روزہ ركھنا ہی نہيں ہے بلكہ اللہ عزّ و جلّ كے امر ميں تفكُّر كرنا بھی عبادت ہے ۔ 

 حوالہ : 
الكافى ، ج ۲ ، ص ۵۵ ، كتاب الإيمان و الكفر ، باب التفكُّر ، حديث : ۴ ۔ 

لمحہِ غور و فكر 

عموما انسان اس غلط فہمى كا شكار ہوتا ہے كہ جو شخص ركوع سجود كى زيادہ زحمتيں اٹھائے اور صبح و شام بھوک پياس برداشت كرے وہ شخص حقيقى معنى ميں عبادت كو انجام ديتا ہے ۔

عبادت ’’ كثرتِ عمل ‘‘ كا نام نہيں ہے ۔ نہ ہى عبادت كا معيار كثرت سے نماز پڑھنا اور كثرت سے روزے ركھنا ہے۔

روايت كے مطابق عبادت سے مراد اللہ تعالى سے مربوط امور ميں غور و فكر كرنا ہے ۔

 تفكُّر ہى اصل عبادت ہے ۔

اگر ايک انسان امورِ الہٰى ميں غور و فكر كرے تو اس سے عظيم عبادت اور كوئى نہيں ہے۔ البتہ بعض روايات ميں ذاتِ بارى تعالى پر غور و فكر كرنے سے منع كيا گيا ہے بلكہ حكم يہ ہے كہ صفاتِ الٰہيہ اور امورِ الہى پر تفكُّر و تدبُّر كرو ۔

مثال کے طور پر اللہ تعالى نے انسان كو كيوں خلق كيا ؟ خلق كرنے كے بعد موت كيوں قرار دى ؟ اللہ سبحانہ و تعالی نے حيوان اور انسان كے ليے يكساں نعمتيں كيوں قرار ديں اور كس مقام پر انسان حيوان سے جدا ہو جاتا ہے ؟ ان جيسے ديگر امور ميں اگر غور و فكر كريں تو يہ عظيم ترين عبادت ہے ۔

روايت معاشروں ميں قائم اس وھم و گمان كو باطل قرار ديتى ہے كہ تفكُّر كى ضرورت نہيں ہے بلكہ صرف عبادت انجام دو، بے شک اس ميں تدبُّر ہو يا نہ ہو كيونكہ اس سے كوئى فرق نہيں پڑتا ٰ اس توہُّم كو دور كرتے ہوئے امام عليہ السلام فرماتے ہيں كہ عبادت "امر الہى"  ميں غور وفكر كرنا ہے ۔ اگر غور و فكر نہ ہو تو عبادت بھى نہيں ہو گى ۔

نوٹ: یہاں عبادت کے معنی کو نماز اور روزے سے خارج نہیں کیا گیا ہے بلکہ تفکر کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس