-
... اور امریکہ دیکھتا رہ گیا! ۔ کارٹون
May ۲۹, ۲۰۲۰ ۰۵:۲۵اسلامی جمہوریہ ایران نے شیطان بزرگ اور نام نہاد سپر پاور کی دھمکیوں کے باوجود اپنے پانچ آئل ٹینکر ونیزوئلا کے لئے روانہ کئے جن میں سے اب تک چار ونیزوئلا پہونچ چکے ہیں جبکہ آخری آئل ٹینکر ونیزوئلا کے ساحلوں سے نزدیک ہو رہا ہے۔ اس درمیان امریکہ کو خاصی خفت اٹھانی پڑی اور سیاسی مبصرین کے بقول ایک بار پھر ایران نے امریکہ کی ساری ہیبت خاک میں ملا کر رکھ دی۔ قابل ذکر ہے کہ سامراج مخالف ایران اور ونیزوئلا دو قریبی دوست ملک ہیں اور دونوں کو امریکہ کی اقتصادی و طبی دہشتگردی کا سامنا ہے۔
-
ایران کا چوتھا آئل ٹینکر ونیزوئلا پہنچا
May ۲۸, ۲۰۲۰ ۱۷:۵۸ایران کا چوتھا تیل بردار بحری جہاز بھی وینیزویلا کے خصوصی اقتصادی زون میں داخل ہوگیا ہے۔
-
نام نہاد سپر پاور کو طمانچہ+ ویڈیو
May ۲۸, ۲۰۲۰ ۰۰:۵۲ایران کا تیسرا آئل ٹینکر بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم کے ساتھ بحر اطلس کو عبور کرتا ہوا بحیرہ کارائیب میں داخل ہو گیا ہے۔
-
ونزوئیلا نے ایران کے جرأت مندانہ اقدام کا خیر مقدم کیا
May ۲۷, ۲۰۲۰ ۱۶:۵۲ونزوئیلا کے وزیر پٹرولیئم نے اپنے ٹوئٹر پیج پر فارسٹ آئل ٹینکر کی تصاویر شائع کر کے ایران کے جرئت مندانہ اقدام کی قدردانی کی ہے۔
-
ایران کا تیسرا آئل ٹینکر ونیزوئلا پہنچا
May ۲۷, ۲۰۲۰ ۱۳:۴۴ونیزوئلا کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران سے روانہ ہونے والے پانچ آئل ٹینکروں میں سے تیسرا بھی ونیزوئلا کی سمندری حدود میں داخل ہو گیا ہے۔
-
ایرانی آئل ٹینکر برادری و یکجہتی کا مظہر ہے: وینزویلا
May ۲۶, ۲۰۲۰ ۱۵:۵۵وینزویلا کے وزیر پٹرولیم نے ایندھن کی ترسیل پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی آئل ٹینکر فارچون برادری و یکجہتی کا مظہر ہے۔
-
ایران نڈر اور شجاع دوست ہے: ونیزوئلا کے صدر
May ۲۵, ۲۰۲۰ ۰۶:۳۴ونیزوئیلا کے صدر نکولس مادورو نے اسلامی جمہوریہ ایران کی قدردانی کی ہے۔
-
امریکی دھمکیاں بے اثر، ایران کا دوسرا بحری جہاز بھی ونیزوئیلا پہنچ گیا
May ۲۵, ۲۰۲۰ ۰۴:۰۲تیل لے کر جانے والا دوسرا ایرانی تیل بردار بحری جہاز بھی ونیزوئیلا کی سمندری حدود میں داخل ہوگیا ہے۔
-
ایرانی تیل بردار بحری جہاز ونیزویلا کی حدود میں داخل ہوگیا
May ۲۴, ۲۰۲۰ ۱۴:۱۰تیل لے کر جانے والا پہلا ایرانی تیل بردار بحری جہاز وینیز ویلا کی سمندری حدود میں داخل ہوگیا ہے۔
-
ایران تیرا شکریہ
May ۲۴, ۲۰۲۰ ۰۶:۵۶وینزویلا کے وزیر پٹرولیم طارق الایسامی نے اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ ادا کیا۔