ترکی معافی مانگے، روس کا مطالبہ
روس نے ترکی سے ایک بار پھر معافی کا مطالبہ کیا ہے ۔
ماسکو سے موصولہ رپورٹ کے مطابق روسی ایوان صدر کے ترجمان دیمتری پسکوف نے پیر کے دن ایک بیان میں کہا ہے کہ انقرہ کے سامنے ماسکو کے ساتھ روابط معمول پر لانے کے لئے روسی جنگی طیارے کو مار گرانے پر معافی مانگنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔ دیمتری پسکوف نے کہا کہ ترکی کے ساتھ روابط اسی وقت معمول پر آسکتے ہیں جب انقرہ حکومت، روس کے سوخوئی چوبیس جنگی طیارے کو مار گرانے پر معافی مانگے اور اس کا تاوان ادا کرے ۔انھوں نے کہا کہ ماسکو انقرہ روابط کو معمول پر لانے کا اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ترکی کے نئے وزیر--اعظم بن علی یلدریم اور وزیر خارجہ چاؤش اوغلو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انقرہ ماسکو روابط کو معمول پر لانے کے لئے ایک ورکنگ کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے ۔ اس کے جواب میں روس نے یہ بیان دیا ہے جس میں ماسکو کے گزشتہ موقف پر تاکید کی گئی ہے ۔
سنیچر کو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھی یونان کے دورے میں کہا تھا کہ انقرہ کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کے لئے ہماری شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ انھوں نے کہا تھا کہ جب تک ترکی معافی نہیں مانگے گا اور ہماری شرائط کو قبول نہیں کرے گا، ترکی کے ساتھ ہمارے روابط معمول پر نہیں آسکتے ۔