روس اور ترکی کے صدور کے درمیان ٹیلی فونی رابطہ
روس اور ترکی کے صدور نے گذشتہ برس ماسکو اور انقرہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے کے بعد پہلی بار ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
روس اور ترکی کے رہنماؤں کی ٹیلی فونی گفتگو کے بعد ترک حکام نے اعلان کیا ہے کہ یہ ٹیلی فونی رابطہ بہت ہی مثبت اور تعمیری رہا اور اس سلسلے میں جلد ہی ایک بیان جاری کیا جائے گا-
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے دفتر کے ذرائع کے حوالے سے ملنے والی خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے صدور نے جلد ہی ایک دوسرے سے ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے-
روسی صدر کے ترجمان دیمیتری پسکوف نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹیلی فونی گفتگو کے نتیجے کا جلد ہی اعلان کر دیا جائے گا-
کریملن نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے گذشتہ برس ترک فضائیہ کے ذریعے روس کا ایک جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے پر ماسکو سے معافی مانگ لی ہے-
تاہم ترک حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کے صدر اردوغان نے روس کے صدر پوتن کو جو خط لکھا ہے اس میں انہوں نے طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے معافی نہیں مانگی ہے-
گذشتہ برس چوبیس نومبر کو ترک فضائیہ کے دو طیاروں نے روس کے ایک سوخوئی طیارے کو شام کی سرحد کے اندر مار گرایا تھا جس کے نتیجے میں روسی طیارے کا ہواباز بھی ہلاک ہو گیا تھا- اس واقعے پر روس نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ترکی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا اور سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی-
روس نے شامی حکومت کی درخواست پر شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرحملے شروع کئے تھے جس پر ترکی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا- ترکی، ان ملکوں میں شامل ہے جو شام میں حکومت اورعوام کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتے ہیں-