Sep ۲۸, ۲۰۱۶ ۱۹:۴۵ Asia/Tehran
  • آیۃ اللہ زکزاکی کی رہائی کے لئے حکومت نائیجریا کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم

نائیجریا کے مسلمانوں نے اپنے ملک کے سرکردہ مذہبی رہنما آیۃ اللہ ابراہیم زکزاکی کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ابوجا سے موصولہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی تحریک کے حامیوں نے اپنے قائد آیۃ اللہ ابراہیم زکزاکی کی رہائی کے لئے تحریک شروع کر دی ہے اور حکومت کو اپنے مطالبے کی تکمیل کے لئے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ رہائی تحریک کے جاری کردہ بیان میں صدر بوھاری کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آیۃ اللہ ابراہیم زکزاکی کو سات دن کے اندر اندر غیر مشروط طور پر رہا کردے بصورت دیگر اس کے نتائج کی وہ خود ذمہ دار ہو گی۔ بیان میں حکومت کو خبر دار کیا گیا ہے کہ آیۃ اللہ ابراہیم زکزاکی کو مقررہ مہلت میں رہا نہ کیا گیا تو دارالحکومت ابوجا کی جانب ملین مارچ شروع کر دیا جائے گا۔ رہائی تحریک کے کنوینر بشیر مرفہ نے کہا ہے کہ  اسلامی تحریک کے لاکھوں حامی اور کارکن، دارالحکومت ابوجا کی جانب مارچ اور دھرنا دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آیۃ اللہ ابراہیم زکزاکی کی رہائی تک ہماری تحریک اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے جیل میں بند اپنے مقبول رہنما آیۃ اللہ ابراہیم زکزاکی کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ نائیجیریا کی فوج نے بارہ اور تیرہ دسمبر دو ہزار پندرہ کو چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر زاریا شہر میں ایک امام بارگاہ اور آیۃ اللہ شیخ زکزاکی کے گھر پر حملہ کر کے تقریبا دو ہزار شیعہ مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا۔ فوج آیۃ اللہ ابراہیم زکزاکی اور ان کی اہلیہ کو زخمی کرنے کے بعد گرفتار کر کے لے گئی تھی۔ واضح رہے کہ جیل میں آیۃ اللہ زکزاکی کی جسمانی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔