روس نے سلامتی کونسل میں فرانس کی قرارداد کو ویٹو کر دیا
روس نے شام میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی حملے فوری طور پر بند کرنے کے مطالبے پر مشتمل سلامتی کونسل کی قرار داد کو ویٹو کر دیا ہے۔
ہفتے کی شام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والے قرارداد کے مسودے میں شام کے شہر حلب میں جھڑپیں روکنے، نوفلائی زون کے قیام اور امداد رسانی کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ روس نے یہ کہتے ہوئے اس قرارداد کو مسترد کر دیا کہ اس میں ان مسلح گروہوں کے معاملے پر کافی اور ضروری توجہ نہیں دی گئی جو جبہت النصر یا فتح الشام جیسے دہشت گردہ گروہوں کے ساتھ مل کر شامی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
روس کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ فضائی حملے روکے جانے سے جبہت النصرہ اور اس کے اتحادی گروہوں کو تحفظ حاصل ہو گا۔ روس کے علاوہ وینزویلا نے بھی اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جبکہ چین اور انگولا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ سلامتی کونسل کے باقی ارکان نے قرارداد کی حمایت کی۔
بعد ازاں روس نے بھی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی جسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ویٹو کر دیا۔ اس قرارداد میں شام کے شہرحلب میں چھڑپیں ختم کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ برطانیہ، فرانس اور امریکہ سمیت نو ممالک نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیئے جبکہ مصر، چین اور وینزویلا نے اس کی حمایت کی۔ انگولا اور یوروگوائے نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
ادھراقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے قرارداد پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے بعض ارکان دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔