الیکٹورل سسٹم غیر جمہوری ہے:امریکی مظاہرین
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i258331-الیکٹورل_سسٹم_غیر_جمہوری_ہے_امریکی_مظاہرین
امریکا میں انتخابی نظام اور نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئے ہیں اور پورٹ لینڈ، واشنگٹن، سیاٹل، لاس اینجلس اور نیویارک سے مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۱۶, ۲۰۱۶ ۱۶:۲۹ Asia/Tehran
  • الیکٹورل سسٹم غیر جمہوری ہے:امریکی مظاہرین

امریکا میں انتخابی نظام اور نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئے ہیں اور پورٹ لینڈ، واشنگٹن، سیاٹل، لاس اینجلس اور نیویارک سے مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

پورٹ لینڈ میں پھر مظاہرے

امریکہ میں صدارتی انتخابات کو ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود مظاہروں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے اور ریاست ارویگن کے سب سے بڑے شہر پورٹ لینڈ میں ایک بار پھر شدید مظاہرے ہوئے ہیں۔اس سے قبل پورٹ لینڈ میں ہفتے کے روز ہونے والے مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کی شیلنگ کی تھی جبکہ توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں ستر سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔

طلبہ کا کلاسوں کا بائیکاٹ
ادھر سیاٹل کے بعد اب واشنگٹن اور لاس اینجلس میں سیکڑوں طلبا نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور ‎سڑکوں پر نکل کر موجود انتخابی نظام کے خلاف شدید نعرے بازی کی ہے۔ مظاہرے میں شریک طلبہ و طالبات کا کہنا تھا کہ نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور ہم تارکین وطن کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ نیو یارک میں بھی صورتحال مختلف نہ رہی جہاں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے مین ہیٹن کے علاقے میں واقع ٹرمپ ٹاور کے سامنے جمع ہوکر مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کے شرکا نے نومنتخب امریکی صدر اور امریکہ کے نسل پرستانہ سیاسی نظام کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ طلبہ نے نیویارک کے ٹرین اسٹیشن کی دیوار پر ٹرمپ مخالف بیانات چسپاں کیے۔

الیکٹورل سسٹم ختم کرنے کا مطالبہ
دوسری جانب کیلفورنیا کی سینٹر باربرا بوکسر نے امریکہ میں آئین میں ترمیم اور الیکٹورل کالج سسٹم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سسٹم فرسودہ اور غیر جمہوری ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں کم ووٹ لینے والا امریکہ کا صدر بن جاتا ہے۔

ہلیری کی حمایت میں تیس لاکھ دستخط
اس سے قبل تیس لاکھ امریکی شہریوں نے ایک دستخطی مہم کے ذریعے الیکٹورل کالج کے ارکان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ریاستوں کے ووٹوں کو نظر انداز کرکے ہلیری کلنٹن کو ملک کا نیا صدر مقرر کردیں۔ اس دستخطی مہم کے ساتھ منسلک بیان میں کہا گیا تھا کہ کلنٹن نے عوام کی جانب سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں لہذا انہیں امریکہ کا صدر ہونا چاہیے۔

کم ووٹ لینے والا الیکٹورل کالج سے جیت گیا
یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ امریکہ میں آٹھ نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو چھے کروڑ بہترہزار پانچ سو اکیاون ووٹ ملے تھے جبکہ ان کی مد مقابل امیدوار ہلیری کلنٹن نے چھے کروڑ چار لاکھ سڑسٹھ ہزار چھے سو ایک ووٹ حاصل کیے تھے لیکن اس کے باوجود ٹرمپ کو الیکٹورل کالج سے ملنے والے دوسو نوے ووٹوں کی بنیاد پر امریکہ کا منتخب صدر قرار دیا گیا۔ ہلیری کلنٹن کو الیکٹورل کالج سے دو سو اٹھائیس ووٹ ملے تھے۔