Apr ۲۲, ۲۰۱۷ ۱۱:۳۳ Asia/Tehran
  • طالبان نے افغان فوجی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی

طالبان نے کہا ہے کہ افغان فوج کے تربیتی کیمپ پر حملہ اس نے کیا ہے۔

طالبان نے اپنے بیان میں بلخ کے صدر مقام مزار شریف میں فوجی تربیتی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اس حملے میں طالبان کے  تقریبا 10 کے قریب دہشتگردوں نے فوجی وردیوں میں ملبوس ہوکر فوجی کیمپ پر حملہ کردیا جس کے بعد دہشت گردوں نے پہلے مسجد اور بعدازاں کھانا کھانے کے مقام پر فوجیوں پر گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں 50 سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جب کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق فوجی تربیتی مرکز پر دہشت گرد گاڑی میں بیٹھ کر داخلی دروازے پر کلئیرنس لینے کے بعد دوسرے دروازے تک پہنچے جہاں اہلکار نے ان سے پوچھ گچھ کی تو ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جب کہ گاڑی میں موجود دہشت گرد فوجی کیمپ کے اندرونی احاطے میں داخل ہوگئے جہاں ان میں سے ایک گروپ نے مسجد میں نماز پڑھنے والے فوجیوں کو نشانہ بنایا جب کہ دوسرے گروہ نے کھانا کھانے کے مقام پر اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

حکام کے مطابق 10 میں سے 7 حملہ آور فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے جب کہ 2 نے خود کو دھماکے سے اڑایا اور ایک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ داعش نے کابل کے فوجی اسپتال پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

 

ٹیگس