امریکا اور مغربی ملکوں سے روسی سفارتکاروں کا اخراج ، ماسکو کا ردعمل
روس نے امریکا اور مغربی ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ ان ملکوں سے روسی سفارتکاروں کو نکالے جانے کا وہ بھی جلد ہی مناسب جواب دے گا
روسی حکومت نے امریکا اور مغربی ملکوں سے سو سے زائد روسی سفارتکاروں کو نکالنے کے ان حکومتوں کے اقدام کو محاذ آرائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو بھی اس کا جلد ہی جواب دے گا- روسی وزارت خارجہ نے مغربی ملکوں کے اس اقدام کو غیر دوستانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مغربی ملکوں کے اس اقدام سے ماسکو اور مغرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا- روس کے ایوان صدر نے بھی اپنے ایک الگ بیان میں مغربی ملکوں کے اس اقدام کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو جوابی اقدام کے اصول کی بنیاد پر مغربی ملکوں کے اس اقدام کا جلد جواب دے گا- امریکا، کینیڈا اور یورپی یونین کے چودہ رکن ملکوں نے برطانیہ میں مقیم روسی نژاد سابق ایجنٹ کو زہر دینے کا الزام روس پر عائد کرتے ہوئے اپنے یہاں سے سو سے زائد روسی سفارتکاروں کو نکال دیا ہے- امریکا نے واشنگٹن اور سیاٹل میں روسی سفارت خانے اور قونصل خانے اور اقوام متحدہ میں روس کے نمائندہ دفتر کے مجموعی طور پر ساٹھ سفارتکاروں کو آئندہ سات روز کے اندر اندر نکل جانے کو کہہ دیا ہے- جن مغربی اور یورپی ملکوں نے اپنے یہاں سے روسی سفارتکاروں کو نکال دیا ہے ان میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، یوکرین، ڈنمارک، لیتھوانیا، پولینڈ، ہالینڈ، اسٹوینیہ اور جمہوریہ چک جیسے ممالک شامل ہیں- برطانیہ پہلے ہی تئیس روسی سفارتکاروں کو اپنے یہاں سے نکال چکا تھا-