جنگ یمن میں سعودی اتحاد کے لئے امریکی ہتھیاروں کی سپلائی سے متعلق پومپیؤ کا بہانہ
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیؤ نے یمن کے خلاف جنگ میں سعودی اتحاد کے لئے اسلحے کی سپلائی کے سلسلے میں توجیہ پیش کی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیؤ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں امریکی کانگریس سے اجازت حاصل کئے بغیر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کو ہتھیاروں کی سپلائی میں عجلت کا بہانہ، علاقے میں ایران کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ ان ممالک کے لئے ہتھیاروں کی ترسیل میں تاخیر علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے موقع پر ان ممالک کی دفاعی سسٹم سے دوری اور ناتوانی کا باعث بن سکتی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ دفاعی سودوں کے معاہدوں کی منظوری میں امریکی کانگریس میں کئی ماہ کی تاخیر تشویش کا باعث بن رہی تھی اس لئے کہ صورت حال ابتر ہو چکی تھی۔مائیک پومپیؤ نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کو فراہم کئے جانے والے فوجی ساز و سامان میں جنگی طیاروں کے پرزے، جاسوسی کے آلات اور دیگر فوجی ساز و سامان شامل ہیں ۔امریکہ کی ٹرمپ حکومت نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں شدّت کا بہانہ بناتے ہوئے امریکی کانگریس کو بائی پاس کر دیا ہے اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کو اسلحے کی فراہمی کا عمل تیز کر دیا۔امریکہ کے مختلف سینیٹروں منجملہ ڈیموکریٹ سینیٹر باب مننڈز نے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ حکومت نے کانگریس کی کمیٹیوں کو باضابطہ طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ آٹھ ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے بائیس سمجھوتوں سے باخبر کیا ہے۔قومی سطح پر ہنگامی حالت کے اعلان کی صورت میں امریکی صدر ٹرمپ، اسلحہ کنٹرول قوانین میں شامل شقوں کو نظرانداز اور کانگریس کی اجازت کے بغیر ہتھیار فروخت کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔امریکہ کے اس سینیٹر کے بقول ٹرمپ حکومت نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کی بنا پر صورتحال ہنگامی بنی ہوئی ہے اور موجودہ صورت حال میں ہتھیاروں کے سودوں پر تیزی سے عمل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ٹرمپ نے سولہ اپریل کو امریکی کانگریس کے اس فیصلے کو، جس میں یمن کے خلاف جنگ میں جارح سعودی اتحاد کے لئے امریکہ کی فوجی حمایت بند کئے جانے کا مطالبہ کیا گیا، ویٹو کر دیا تھا۔امریکہ نے مارچ دو ہزار پندرہ یعنی یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت کے آغاز سے ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو انٹیلی جینس مدد اور ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی ہے اور اس اتحاد کی بھرپور حمایت کی ہے۔