امریکہ سعودی جرائم کا حامی
Jul ۲۷, ۲۰۱۹ ۱۶:۳۷ Asia/Tehran
امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ایران کے خلاف بے بنیاد دعووں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا حلیف سعودی عرب ایران سے لاحق خطرات کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے مائک پومپیو نے ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں غیر یقینی صورت حال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ" ایرانی، اپنی شرپسندانہ سرگرمیوں اور میزائل نیز ایٹمی پروگرام کی توسیع کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔"
امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت بند کرنے سے متعلق کانگریس کی قرارادادوں کو ٹرمپ کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ " ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اسلامی جہموریہ ایران ایک حقیقی خطرہ ہے اور اس خطرے کو دور کرنے میں سعودی ہمارے ساتھ ہیں، ہم سعودیوں کے ساتھ اپنی مشارکت کی خاطر کچھ بھی کرسکتے ہیں۔"
ٹرمپ نے دو روز قبل کانگریس کی منظور کردہ تین قراردادوں کو مسترد کر دیا تھا جن میں سعودی عرب کو امریکی اسلحے کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے سینیٹ کے نام اپنے پیغام میں اس اقدام کی توجیہ کرتے ہوئے سعودی عرب کو ایران کی تخریبی سرگرمیوں کے مقابلے میں ایک فصیل قرار دیا ہے۔
امریکی صدر، جو واضح طور پر ملک کی خارجہ پالیسی کو تجارتی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، سعودی عرب سے تعلقات کے ذریعے اپنے اقتصادی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ تین وجوہات کی بنا پر سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت بند نہیں کی جا سکتی۔
ٹرمپ کے مطابق پہلی اور اہم ترین وجہ، سعودی عرب میں مقیم اسی ہزار سے زیادہ امریکی شہریوں کی حفاظت ہماری اصلی ذمہ داری ہے، جنہیں یمنی حوثیوں کے حملوں سے خطرہ ہے۔
دوسرے یہ کہ کانگریس کی قراردادوں سے، سعودی عرب کی فوجی آمادگی اور اپنے اقتدار اعلی کے تحفظ کے حوالے سے اس کی طاقت کم ہوجائے گی اور اسی طرح وہاں موجود امریکی فوجی اہلکاروں کی حفاظت کے حوالے سے بھی اس ملک کی توانائی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
تیسرے یہ کہ سعودی عرب خطے میں ایران اور اس کی پراکسیز کی تخریبی سرگرمیوں کے مقابلے میں ایک فصیل ہے۔
سعودی عرب خطے میں امریکہ کا اسٹریٹیجک اور اقتصادی حلیف ہی نہیں بلکہ امریکی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار شمار ہوتا ہے لہذا ٹرمپ انتظامیہ آل سعود کے ساتھ اپنے تعلقات کی سطح میں کسی بھی طرح کی کمی کا ارادہ نہیں رکھتی۔
دوسری جانب امریکہ نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے تحت، تہران کے خلاف نہ صرف ریکارڈ توڑ پابندیاں عائد کر دی ہیں بلکہ ایران سے لاحق خود ساختہ خطرات کی روک تھام کے بہانے خلیج فارس اور اس کے اطراف کے سمندر میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر کے، عملی طور پر خطے کی بدامنی اور عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اس وقت یہ کوشش کر رہی ہے کہ خلیج فارس کی کشیدگی میں سعودی عرب کو براہ راست ملوث کیا جائے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران بارہا سعودی عرب سمیت خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ملکوں کے ساتھ تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کر چکا ہے۔