داعش کے قیام میں امریکی کردار چھپانے کی کوشش
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i356935-داعش_کے_قیام_میں_امریکی_کردار_چھپانے_کی_کوشش
امریکا نے داعش کی تشکیل، تقویت اور اس کو دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد گروہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور اب اس کے دہشت گرد سرغنہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو دہشت گردی مخالف مہم کا علمبردار ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۸, ۲۰۱۹ ۱۳:۱۲ Asia/Tehran
  • داعش کے قیام میں امریکی کردار چھپانے کی کوشش

امریکا نے داعش کی تشکیل، تقویت اور اس کو دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد گروہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور اب اس کے دہشت گرد سرغنہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو دہشت گردی مخالف مہم کا علمبردار ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو واشنگٹن میں ایک پریس کانفرس سے خطاب میں داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی کی مبینہ ہلاکت کے آپریشن کی تفصیلات بیان کیں۔ 
انھوں نے کہا کہ کل رات دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد گروہ کے سرغنہ کو امریکا نے ہلاک کردیا ہے۔ 
ٹرمپ نے دعوی کیا کہ وہ براہ راست اس آپریشن کے نگرانی کر رہے تھے جس کے دوران ابوبکر البغدادی کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔
ٹرمپ نے اس بات کا کوئی ذکر کئے بغیر کہ داعش کی تشکیل میں امریکا کا بنیادی کردار رہا ہے، دعوی کیا کہ ابوبکر البغدادی کتے کی طرح مارا گیا اور اس نے فرار کے تمام راستے بند ہونے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
ٹرمپ نے پوری رعونت کے ساتھ دعوی کیا کہ دنیا کے ظالم ترین اور وحشی ترین دہشت گرد گروہ کے سرغنہ کی خلافت، ان کے یعنی ٹرمپ کے لطف و کرم سے مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ 
اس سے پہلے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے اعلان کیا تھا کہ ابوبکر البغداد کی لاش امریکی فوج کے قبضے میں ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ سے اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ یہ لاش ابوبکر البغدادی کی ہی ہے ۔ 
امریکا نے ڈرامائی انداز میں داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی خبر کا اعلان کیا اور پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ، متکبرانہ انداز میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں کے سامنے ظاہر ہوئے اور امریکا کو عالمی دہشت گردی کے خلاف مہم کا سرخیل بتاکے، داعش سے متعلق حقائق کی پردہ پوشی کی کوشش کی۔ ابوبکر البغدادی کی سرکردگی میں قائم بدنام زمانہ داعش دہشت گرد گروہ نے امریکہ، سعودی عرب، اور اسرائیل کی مالی اور فوجی حمایت کے ذریعے سن دوہزار چودہ میں عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ اور لاتعداد انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ 
ٹرمپ نے اس طرح داعش کی تشکیل اور اس کی ہمہ گیر حمایت میں امریکا کے کردار کے بارے میں اپنے ماضی کے بیانات کو نظرانداز کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ 
یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی دو ہزار سولہ میں اپنی ایک انتخابی تقریر میں کہا تھا کہ وہ یعنی اوباما اور ہلیری کلنٹن، جھوٹے ہیں۔ انہوں نے ہی داعش کو تشکیل دیا ہے، ہلیری کلنٹن اور اوباما ہی داعش کو وجود میں لائے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اپنے یہ بیانات فراموش کرچکے ہیں یا اب وقت کے تقاضے کے مطابق امریکی عوام کے درمیان اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے ساتھ ہی عالمی رائے عامہ کی نظر میں امریکا کو دہشت گردی مخالف ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟ 
لیکن داعش کی تشکیل، تقویت ، اس کو انواع و اقسام کے اسلحے سے لیس کرنے اور عراق اور شام دونوں ملکوں میں اس کی بھر پور مالی اور اسلحہ جاتی حمایت میں امریکی کردار اتنا نمایاں ہے کہ اس کی پردہ پوشی ممکن نہیں ہے۔ 
امریکا نے اپنے مغربی اور عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر، شام کی قانونی حکومت کو گرانے کے لئے شام میں داعش سمیت کئی تکفیری دہشت گرد گروہ تشکیل دیئے۔ بحران شام میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی کارکردگی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ امریکا، اور اس کے اتحادی مغربی ملکوں اور سعودی حکومت سمیت خطے کی بعض رجعت پسند عرب حکومتوں کی بھر پوری مالی اور اسلحہ جاتی حمایت سے داعش نے دو ہزار گیارہ سے دو ہزار چودہ کے درمیان شام اور عراق کے بہت سے شہروں پر قبضہ کرلیا۔ 
اس کے بعد جب دونوں ملکوں کی حکومتوں نے ایران کی فوجی مشاورت اور روس نیز استقامتی محاذ کے تعاون سے داعش اور دیگر تکفیری دہشت گردوں کی سرکوبی اور داعش کے قبضے میں چلے جانے والے شہروں اور علاقوں کو آزاد کرانے کی کارروائیوں کا آغاز کیا تو نام نہاد داعش مخالف امریکی اتحاد نے داعش کو بچانے کی بھر پور کوشش کی لیکن سر انجام عراق اور شام کی افواج نے ایران کی فوجی مشاورت سے داعش کے تسلط کا خاتمہ کردیا۔
آج بھی شام میں تکفیری دہشت گردوں کے آخری گڑھ ادلب میں شامی فوج کی کارروائیوں کی مخالفت اور ان میں رکاوٹیں ڈالنے کی امریکا بھر پور کوشش کر رہا ہے۔ بنابریں داعش کے خلاف مہم کے امریکی دعوے پر کوئی بھی یقین نہیں کرسکتا۔